اگر آج انسان کسی بات پر سب سے زیادہ غور و فکر کرتا اور پریشان نظر آتا ہے تو وہ صرف یہی ہے کہ کس طرح اپنی ذات میں چھپی خامیوں اور کوتاہیوں کو پہچانتے ہوئے انہیں دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ لیکن انسان کے لیے اس سے بھی بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ آخر یہ کام ہو کیسے؟ بس اسی مشکل کو دور کرنے کے لیے ہم کچھ ایسے نکات آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں جنہیں جان کر یہ مشکل دور کرنے میں کچھ نہ کچھ مدد ضرور حاصل ہوسکتی ہے۔

مردم شناسی

  • دھرتی پر برستی بارش کا ہر قطرہ ایک سا ہوتا ہے لیکن بھیگتی ہوئی ہر چیز اپنی اصل کے مطابق آواز دیتی ہے۔
  • اچھے انسان کی اچھائی ہر خاص و عام کے لیے یکساں ہوتی ہے لیکن ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق قدردانی کرتا ہے۔
  • بُرے حالات سب پر آتے ہیں لیکن ہر شخص اپنے حوصلے اور عقل کے مطابق لڑتا ہے۔
  • ایک جیسی نعمتیں رکھنے والے اپنی اپنی اوقات کے مطابق اخلاق رکھتے ہیں۔
  • یاد رکھیں، انسان اپنے طرزِ عمل سے ہمیشہ پہچان لیا جاتا ہے بشرطیکہ سامنا کسی صاحبِ نظر سے ہو۔

ہار اور جیت

ہار ہمیشہ ہار نہیں ہوتی۔

جیت ہمیشہ جیت نہیں ہوتی۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بظاہر ہارنے والا اصل میں جیت جاتا ہے اور بظاہر فتحیاب اصل میں شکست خوردہ ہوتا ہے، لیکن ہار میں چھپی جیت اور فتح میں چھپی شکست کو پہچاننے کے لیے دور اندیشی کی عینک چاہیے اور اُسے پانے کے لیے دانشمندی کی دولت چاہیے۔

اگر آپ اکثر ہار کر جیت جاتے ہیں تو آپ عقلمند ہیں لیکن اگر آپ ہر بار جیت کر بھی ہار جاتے ہیں تو جذباتیت و انا پرستی چھوڑ دیں اور جلد کسی عقلمند سے رجوع فرمائیں، اس سے پہلے کہ آپ زندگی کی بازی ہی ہار جائیں۔

آپ کون ہیں؟

عقلمند جگ بیتی سے ہی سیکھ جاتا ہے، نادان کو سیکھنے کے لیے آپ بیتی چاہیے اور جاہل تو آپ بیتی سے بھی نہیں سیکھتا۔

فیصلہ کریں، آپ کون ہیں؟

ذات کا خول

رحمِ مادر سے آزادی حقیقی پیدائش نہیں ہوتی بلکہ انسان پیدا اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی ذات کا خول توڑ کر باہر نکلتا ہے۔

قدرت شعور کے پنجے ہر انسان کو دیتی ہے لیکن عجیب بات ہے کہ اکثر انسان اپنی حقیقی پیدائش سے پہلے موت کی وادیوں میں اُتر جاتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس خطرناک خول کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟

  1. میں سب سے بہتر ہوں۔
  2. میں ہمیشہ درست ہوں۔
  3. میں سب جانتا ہوں۔

بہت کم لوگ اس خول کو توڑ پاتے ہیں، کہیں آپ بھی اپنی ذات کے خول میں قید تو نہیں؟

چراغ اور سورج

سورج کو بھی چراغ دکھایا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس میں چراغ کو دیکھنے کا ظرف ہو۔

قبلہ اور سجدہ

اپنی ذات کو قبلہ بنالیا جائے تو سجدہ کرنے کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔

بھوک اور نیند

بھوک اور نیند کی جنگ بڑی دلچسپ ہوتی ہے، بھوک نیند کو بھگانے میں لگی رہتی ہے اور نیند بھوک سے بے نیاز کرنے میں مصروف، یہ جنگ البتہ صرف غریب لڑتے ہیں۔ آپ اس میدان کے سپاہی نہیں، عجیب جنگ ہے یہ، جس میں بھوک اور نیند دونوں حریف تو جیت جاتے ہیں لیکن غریب ہمیشہ ہار جاتا ہے۔

سود و زیاں

کھودینے کا خوف تمہاری آزادیاں سَلب کرچکا ہے، حالانکہ نقصان ہمیشہ نئی راہیں کھولتا ہے۔ پالینے کے جنون میں تم سب کچھ بیچنے کو تیار ہو، حالانکہ ہر چیز برائے فروخت نہیں ہوتی۔ سود و زیاں کا یہ کھیل جرات اور اصولوں سے کھیلا جاتا ہے۔

اگر بزدلی تمہاری گھٹّی میں پڑی ہے اور ضمیر فروشی تمہارا وطیرہ بن چکی ہے تو یاد رکھو حتمی شکست تمہارا مقدر ہے۔

بول کا تول

کہتے ہیں پہلے تولو پھر بولو، عام لوگوں کو تو یہی سمجھ نہیں آتا کہ تولنا کیا ہے؟ خیالات کو تولیں یا الفاظ کو تولیں؟

الفاظ تو آپ کے بولنے کے بعد سننے والا تولے گا، آپ بولنے سے پہلے اپنے خیالات کو تولیں البتہ خیالات کو تولنے کے لیے دماغ میں عقل کا ترازو ہونا چاہیے، جو پاس نہیں تو کسی سے مشورے کی شکل میں ادھار لے لیں، لیکن بولنے سے پہلے اپنے خیالات کا وزن ضرور کروالیں ورنہ آپ بے وزن ہوجائیں گے، وہ بھی پل بھر میں۔

خواہش اور مقصد

خواہش کو پورا کرنا مقصد بن جائے یا مقصد کو پانے کی خواہش پیدا ہوجائے، دونوں صورتوں میں انسان کامیاب تو ہوجاتا ہے لیکن خواہش اور مقصد میں کچھ فرق ہوتا ہے۔

کیا آپ یہ فرق جانتے ہیں؟

  • مقصد کے پیچھے کوئی نظریہ ہوتا ہے لیکن خواہش عموماً نفس پرستی کی
    کوکھ سے جنم لیتی ہے۔
  • مقصد کو پاکر انسان مضبوط ہوتا ہے اور خواہش کی تکمیل انسان کو کمزور کرتی ہے۔
  • مقصد بے لوث ہوکر پورا کیا جاتا ہے جبکہ خواہش پوری کرنے والا اپنی ذات کا طواف کرتا رہتا ہے۔
  • مقصد کا حصول اطمینان بخش ہوتا ہے لیکن خواہش کی تکمیل لذت آمیز ہوتی ہے، یاد رکھیں اطمینان اور لذت 2 مختلف چیزیں ہیں۔
  • مقصد کی خاطر دی گئی قربانیاں ہمیشہ قابلِ فخر رہتی ہیں لیکن خواہش
    کے لیے دی گئی قربانیاں جلد پچھتاوے میں تبدیل ہوجاتی ہیں
  • مقصد کے نتائج دیرپا ہوتے ہیں جبکہ تکمیلِ خواہش پر خوشی بہت جلد
    بھاپ بن کر اڑ جاتی ہے۔