عام انتخابات 2018 سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے غیر ملکی مبصرین کو انتخابی عمل کی نگرانی سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی پاکستان آمد کے حوالے سے معاملات کو مشکل بنا دیا۔

الیکشن کمیشن نے غیر ملکی مبصرین کے لیے ضابطہ اخلاق تیار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی مبصر کو دعوت نامہ نہیں بھیجا جائے گا۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن نے سرکاری بھرتیوں پر پابندی عائد کردی

فیصلے کے مطابق غیر ملکی مبصرین کے لیے ویزہ لینے کا عمل بھی مشکل بنا دیا گیا ہے اور غیر ملکی مبصرین کو وزارت خارجہ اور داخلہ کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ جو غیر ملکی مبصر آنا چاہتا ہے اسے خود سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد آنے کی اجازت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق تنازعات کو خطرہ قرار دے دیا

ان کا کہنا تھا کہ مبصرین کو کم سے کم 2 ماہ پہلے ویزے کے لیے درخواست دینا ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ وزارت داخلہ کو مبصرین کی سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے 4 ہفتوں کا وقت دیا جائے گا اور غیر ملکی مبصرین 4 سے 6 ہفتوں کے لیے پاکستان آسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ غیر ملکی مشنز کو ہدایت دے گا کہ آبزرورز کی سیکیورٹی ایجنسیز سے کلیئرنس کے بعد ویزا ایشو کرے۔

مزید پڑھیں: ’الیکشن کمیشن کی لگائی گئی پابندیوں سے عدلیہ مستثنیٰ قرار‘

الیکشن کمیشن نے ہدایات جاری کیں کہ وزارت داخلہ غیر ملکی مبصرین کے لیے سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی مبصرین الیکشن عمل کے درمیان میڈیا پر بیان نہیں دے سکیں گے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ غیر ملکی مبصرین الیکشن کی شفافیت کے لیے کسی بھی سیاستدان، سیاسی جماعتوں اور امیدواروں سے مل سکیں گے جبکہ الیکشن کمیشن غیر ملکی مبصرین کو خصوصی پاسز جاری کرے گا۔

چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان کا خطاب

چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شفاف انتحابات کروانا الیکش کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عام انتحابات کو شفاف بنانے میں ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران کا اہم کردار ہے اور شفاف عام انتحابات کروانے کرنے کے لیے الیکشن کمیشن بھرپور کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ ایک شفاف ادارہ ہے یہی وجہ ہے کہ ڈسٹرکٹ ریٹنرگ افسران عدلیہ سے لیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ الیکشن پاکستان کے مستبقل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور پنجاب کے نتائج آئندہ حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

سردار رضا خان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک میں الیکشن اعتبار نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کی وجہ بنتے ہیں اور ایسے انتخابات میں ہارنے والے الیکشن سسٹم پر اعتبار ختم کر دیتے ہیں جبکہ جیتنے والے بھی ہار جاتے ہیں کیونکہ ان پر عوام کا اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہی عوام کی نمائندگی کا حق ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ناقص انتخابات نہ صرف سیاسی عدم استحکام پیدا کرتے ہیں بلکہ اداروں کو بھی کمزور کرتے ہیں۔

چیف الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ شفاف انتخابی عمل ہی گڈ گورننس، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔

عام انتخابات 2018 کی تیاریاں

الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے لیے 330 انتخابی نشانات کی فہرست تیار کر لی۔

الیکشن کمیشن نے انگریزی کے 6 حروف تہجی بھی انتخابی نشانات میں شامل کرلیے گئے جن میں اے، بی، جی، کے، پی اور ایس شامل ہیں۔

انتخابی نشانات میں چمچ اور جوتے کو بھی شامل کرلیا گیا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ انتخابی نشانات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو ان کے حصول کے لیے دوبارہ درخواست دینا ہوگی اور اس درخواست میں انتخابی نشان کے لیے ترجیح بتانا لازم ہوگا۔

الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو 25 مئی تک درخواستیں جمع کروانے کی ہدایت کردی۔