بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 پاکستانی شہید

اپ ڈیٹ 18 مئ 2018

ای میل

بھارتی افواج نے صبح سویرے سیالکوٹ سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کرکے 3 پاکستانی خواتین اور ایک بچے کو شہید کردیا جبکہ 10 شہری زخمی بھی ہوئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بھارت نے ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی فائرنگ کے جواب میں پنجاب رینجرز کے جوانوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے بھارتی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا جہاں سے حملے کا آغاز کیا گیا تھا۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ شہید ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے 40 سالہ کلثوم، 18سالہ شمع ناز، 14سالہ علی حمزہ اور 10سالہ بیٹی مسکان شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی فائرنگ، ایک شخص جاں بحق

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ سے 4 معصوم شہریوں کی شہادت پر بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کرلیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ قائم مقام سیکریٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر سے شدید احتجاج کیا اور احتجاجی مراسلہ بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کے حوالے کیا۔

مراسلے میں کہا گیا کہ بھارتی افواج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا، بھارت سیز فائر معاہدے کا احترام کرے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی: بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ سے 10 افراد زخمی

مراسلہ میں مزید کہا گیا کہ آج صبح چپڑار، ہرپال، پُکھلیاں، شکرگڑھ سیکٹر میں بھارت کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔

بعد ازاں جاں بحق ہونے والے افراد کی نماز جنازہ سیالکوٹ میں ادا کرنے کے بعد انکے آبائی قبرستان میں انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔

جاں بحق افراد کی نماز جنازہ میں ڈی جی رینجرز میجر جنرل اطہر نوید حیات، برگیڈیئر جمال، ضلعی انتظامیہ، سیاسی وسماجی شخصیات کے علاوہ علاقے کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

بھارت کا پاکستانی فوج پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کی فائرنگ سے بھارت کی سرحدی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کے علاوہ 4 بھارتی شہری ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان فورسز نے آر ایس پورہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب بھارت پوسٹس اور گاؤں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بارڈر سیکیورٹی فورس کا 27 سالہ کانسٹیبل ہلاک ہوا۔

واضح رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

26 اپریل کو بھی بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

18 مارچ کو بھی آزاد جموں اور کشمیر کے علاقے نکیال سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے 2 لڑکیوں سمیت 10 افراد زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سیز فائر کی خلاف ورزی، پاکستان کا بھارت سے ہاٹ لائن پر رابطہ

یاد رہے کہ رواں برس اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین برائے بھارت اور پاکستان کے 3 اہلکاروں کے لائن آف کنٹرول کے دورے کے دوران ان کو صورت حال سے آگاہ کرنے والے دو مقامی افراد کو بھارتی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے زخمی کردیا تھا تاہم اس حملے میں اقوام متحدہ کے اہلکار محفوظ رہے۔

دوسری جانب اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمںٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے مطابق رواں برس بھارتی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 21 تک جاپہنچی ہیں، جن میں 15 مرد اور 6 خواتین شامل ہیں جبکہ اسی عرصے کے دوران 119 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

ایس ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ برس 2017 میں جاں بحق افراد کی تعداد 46 تھی جبکہ 262 افراد زخمی ہوئے تھے۔