خود کش حملہ آور آخر کیا سوچتا ہے؟
وہ جیکٹ میں بھرے نٹ بولٹ، بیرنگز کا بوجھ اپنے سینے پر محسوس کررہا تھا۔
وہ جیب میں رکھے سوئچ کو بار بار ٹٹولتا، اس کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں اور ہونٹ کپکپارہے تھے۔ اسے یوں لگا کہ اس کی ٹانگوں کا خون نیچے اتر کر پورے وجود کو سرد تر کررہا ہے۔
اچانک اسے اپنے شیخ کے جملے یاد آئے ۔ اس کے ذہن کے گنبد میں' شہادت مبارک' کے الفاظ کی تکرار چلتی رہی۔ اب وہ بھاگا اور ایک قدرے بھیڑ والی جگہ پہنچ کر اس نے ایک نعرہ بلند کیا اور پوری قوت سے بٹن دبادیا ۔ ایک دھماکہ ہوا اور پھر دھویں کے بادل میں بارود اور لہو کی بو پھیل گئی۔
دنیا کے کئی ممالک میں اس طرح کے واقعات سے یہ سوال ہمیشہ اٹھایا جاتا رہا ہے کہ آخر خودکش حملہ آور کے دماغ میں کیا ہوتا ہے۔
معروف برطانوی سائنسی جریدے، نیو سائنٹسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر کے تاریخ ساز واقعے کے بعد امریکہ میں دہشتگردی کے ماہرین کی اکثریت نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ خودکش حملہ کرنے والے دہشتگرد دماغی و نفسیاتی طور پر نارمل ہوتے ہیں۔ اگر ان کا ذہنی تجزیہ کیا جائے تو وہ امریکی اسپیشل فورسز کے ایجنٹ سے مختلف نہیں ہوتے ۔ چونکہ نائن الیون کے اغواکاروں نے جانتے بوجھتے ہوئے ہوائی جہازوں کو عمارتوں سے ٹکرادیا تھا تو اس کا سادہ مطلب یہ لیا گیا وہ اس مقصد کیلئے جان دینا چاہتے تھے جسے وہ اپنے طور پر درست سمجھتے تھے۔
یہ دلیل بار بار اتنی مرتبہ دوہرائی گئی کہ گویا ایک مستحکم بات میں تبدیل ہوگئی ۔ دوہزار چھ میں سی آئی اے سے تعلق رکھنے والے ماہر جیرلڈ پوست نے کہا کہ ہم دہشتگردوں کو پاگل شدت پسند قراردیتے ہیں لیکن یہ درست نہیں وہ عام نارمل افراد ہوتے ہیں۔
لیکن یہ بات درست نہیں ۔ خودکش حملہ آور شدید بحران اور ناقابلِ برداشت تکلیف سے بچنے کیلئے خود کو ہلاک کرتے ہیں اور اس حوالے سے ان کا رویہ خودکشی کی جانب مائل ہوتا ہے۔
اس کیلئے کرمنل جسٹس پر تحقیق کرنے والے ایڈم لینکفورڈ نے خودکش حملہ آوروں کی ( حملے سے پہلے والی بھی) ویڈیوز دیکھیں، ان کی ڈائری اور خطوط کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کے کیسز کا مطالعہ کیا۔
انہوں نے اپنی کتاب، دی متھ آف مارٹرڈوم ( شہادت کا معمہ) میں کہا ہے کہ خود کو پھونک ڈالنے والے یہ افراد اکثر مختلف اقسام کی ذہنی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان میں خوف، ناکامی، شرمندگی، غضب اورقصور وار ہونے کا تصور بہت ذیادہ ہوتا ہے۔ دوسری جا نب ان کے برتاؤ میں خودکشی کی جانب رحجان ہوتا ہے یعنی اس عمل کو وہ زہن میں لاتے ہیں، خودکشی کا منصوبہ بھی بناتے ہیں اور ماضی میں خودکشی کی کوشش بھی کرتےہیں۔
ان سب کے باوجود کئی ماہرین نے ایک ہی غلطی دوہرائی اور خود کش حملہ آوروں کو ایک عام نارمل انسان قرار دیتے رہے۔
اسی طرح برطانیہ میں یونیورسٹی نوٹنگھم کی ایلن ٹاؤنسینڈ دوہزار سات میں ایک اہم مقالہ شائع کیا جس میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا خود کش حملہ آوروں کی طبیعت خودکشی کی جانب مائل ہوتی ہے اور اس کا جواب انکار میں تھا۔
لیکن اس کے برخلاف ناکام فلسطینی خودکش بمبار خاتون وفا البس نے دوہزار پانچ میں ایک اسرائیلی چیک پوسٹ پر خود کو دھماکے سے اُڑانے کی ناکام کوشش کی تھی۔
اس کے والدین اور اسے (خودکش حملوں کیلئے) بھرتی کرنے والے افراد کے انٹرویوز سے یہی ظاہر تھا کہ اس نے مذہبی اور سیاسی وجوہ پر یہ قدم اُٹھایا تھا۔
لیکن یہ بات درست نہیں خودکش حملہ آور اپنے بارے میں بہت کم بولتے ہیں اور اپنے احساسات و جذبات کو دل میں ہی رکھتے ہیں ۔ خود انہیں پھٹ پڑنے پر تیار کرنے والے افراد یہ کہتےہیں کہ وہ شہادت کے عظیم مشن پر تھے۔
یہ بات دیگر مذہبی شدت پسند مسلمانوں کے نزدیک بھی درست ہے ۔ اسلام میں خودکشی حرام ہے اور اس کا مرتکب جہنم میں جاتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب شہید ہونے والے جنت میں جاتے ہیں۔
البس ذہنی امراض کی شکار تھی اور اس سے قبل وہ دو مرتبہ اقدامِ خودکشی کرچکی تھی ۔
خودکش حملہ یا خودکشی
البس کا معاملہ اگرچہ انوکھا تھا کہ قاری سمیع کا معاملہ بھی دلچسپ ہے ۔ اس نے دوہزار پانچ میں کابل کے ایک کیفے میں خود کو دھماکے سے اُڑادیا تھا۔ وہ ایک کیفے میں داخل ہوا کھانے کی میزوں اور لوگوں کو عبور کیا۔
وہ کیفے کے باتھ روم میں پہنچا۔ دروازہ بند کرکے اس نے بارودی بیلٹ کو چلادیا۔ وہ دو افراد سمیت ہلاک ہوگیا لیکن وہ بہت آسانی سے بہت سارے لوگوں کو مار سکتا تھا لیکن بعد میں پتا چلا کہ وہ انٹی ڈپریسنٹ دوائیں استعمال کررہا تھا۔
اسی طرح نائن الیون حملوں کا سرغنہ ، محمد عطا جسے لوگوں نے ایک عام خود کش حملہ آور قرار دیا تھا ۔ وہ کئی برس سے سماجی طور پر الگ تھلگ تھا، شدید ڈپریشن، شرمندگی اور نا امیدی کا شکار تھا۔
تل ابیب یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات ایرل میراری نے حال ہی میں پندرہ ناکام خودکش حملہ آوروں، بارہ غیر خودکش دہشتگردوں اور خودکش حملوں کا انتظام کرنے والے چودہ افراد کا نفسیاتی مطالعہ کیا ہے جو فلسطین سے تعلق رکھتے تھے۔
جب عام دہشتگرد افراد سے پوچھا گیا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی خودکش حملہ کرنے کے بارے میں سوچا تھا تو بارہ میں سے گیارہ افراد نے انکار میں جواب دیا۔ انتظام کرنے والے چودہ میں سے نو افراد نے بھی 'ناں' میں جواب دیا۔ جبکہ کسی نے بھی زندگی میں خودکشی کی کوشش نہیں کی نہ ہی رحجان ظاہر کیا ۔
جبکہ خودکش بمبار بننے والوں کی کہانی مختلف تھی۔ نہ صرف انہوں نے خودکش حملے کے مشن پر پہلے سے ہی آمادگی ظاہر کی بلکہ آٹھ شدید ڈپریشن میں تھے، چھ خودکشی کی جانب مائل نظر آئے اور ان میں سے دو افراد پہلے ہی خودکشی کی کوشش بھی کرچکے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ بعض خودکش حملہ آور، پہلے سے ہی خودکشی کا رحجان رکھتے تھے۔ ایڈم لینکفورڈ نے 130 حملہ آوروں کا مطالعہ کیا جو اس کی تصدیق کرتا ہے۔
آخر اس چھان بین کی اہمیت کیا ہے؟ یہی کہ خودکش حملہ آوروں کو صرف ' نارمل' یا ' شہید' کہنا خطرناک ہوگا۔ کیونکہ وہ براہِ راست دہشتگرد لیڈروں کے ہاتھ میں کھیلتے ہیں ۔ اور وہ موت کو مزید خوشنما بناکر مزید دہشتگردی بھرتی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
دوسری جانب ان خودکش حملہ آوروں کو دماغی مریض سمجھتے ہوئے نہ صرف ان کا علاج کیا جاسکتا ہے بلکہ لوگوں کو مستقبل کے دھماکوں سے بھی محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ دوہزار ایک سے دوہزار دس کے درمیان دنیا میں خودکش حملوں کی تعداد میں تین سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔












لائیو ٹی وی
تبصرے (2) بند ہیں