ایدھی فاؤنڈیشن کے فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں 65 افراد ہیٹ اسٹروک کے باعث جاں بحق ہوگئے۔

ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے فیصل ایدھی نے کہا کہ کورنگی اور سہراب گوٹھ ایدھی سردخانے میں 3 روز کے دوران 114 لاشیں لائی گئیں جن میں سے 65 افراد ہیٹ اسٹروک کے باعث جاں بحق ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ہیٹ اسٹروک کا شکار ہونے والوں کا تعلق لانڈھی اور کورنگی سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیٹ اسٹروک کے باعث زیادہ تر اموات گھروں میں ہوئیں، گھروں میں مرنے والے افراد کو بروقت ہسپتال نہیں پہنچایا جاسکا جس کے باعث ان کی موت ہوئی، جبکہ ہیٹ اسٹروک سے مرنے والوں کی عمریں 6 سے 78 سال کے درمیان ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی: محکمہ موسمیات نے گرمی میں اضافے کا عندیہ دے دیا

فیصل ایدھی نے کہا کہ کورنگی ایدھی مردہ خانے میں روزانہ 10 سے 11 میتیں لائی جاتی ہیں، ہفتہ کی شام سے اب تک مردہ خانے میں 34 جبکہ سہراب گوٹھ مردہ خانے میں 30 میتیں وصول کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ افراد کی اموات روز مرہ کے کام کے دوران ہوئیں۔

تاہم سیکریٹری صحت سندھ ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی بھی متاثرہ فرد ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے ہلاک ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صرف ڈاکٹرز اور ہسپتال یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ موت کی وجہ ہیٹ اسٹروک تھی یا نہیں، جبکہ میں اس بات کو یکسر مسترد کرتا ہوں کہ لوگوں کی اموات کراچی میں ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے ہوئیں۔‘

ویڈیو دیکھیں: کراچی میں شدید گرمی کی لہر برقرار

انہوں نے کہا کہ ’کراچی کے ہسپتالوں میں گزشتہ تین روز کے دوران ہیٹ اسٹروک کا کوئی ایک بھی مریض نہیں آیا۔‘

واضح رہے کہ کراچی ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جہاں پارہ 44 ڈگری کو چھو رہا ہے، جبکہ گرمی کی یہ لہر 23 مئی تک جاری رہنے کی پیش گوئی ہے۔

گزشتہ روز محکمہ موسمیات نے کراچی کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شہر کا موسم چند روز کے دوران گرم سے گرم ترین ہوگا۔‘