نواز شریف کے حالیہ انٹرویو کی مذمت کرتا ہوں، رہنما مسلم لیگ (ن)

ای میل

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب کے صوبائی وزیر مال عطا مانیکا نے سابق وزیراعظم کے انٹرویو کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نواز شریف کے حالیہ انٹرویو کی مذمت کرتے ہیں اور نواز شریف کے بیانیے سے اتفاق نہیں کرتے۔

عطا مانیکا کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے وزرا کو عزت نہیں دی ووٹ کو کیا عزت دیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم وزیر ہو کر بے اختیار ہیں کئی مرتبہ اس کا اظہار پارٹی کے اجلاس میں بھی کیا اور استفعی بھی پیش کیا، مگر اختیارات نہیں دیئے گئے صرف وزیر کا نام دے دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر جانے والے خود جارہے ہیں، انہیں اسٹیبلشمنٹ نہیں لے کر جارہی جبکہ اسٹیبلشمنٹ پر وفاداریاں تبدیل کرانے کے الزمات جھوٹ پر مبنی ہیں، لوگ ان کے رویے کی وجہ سے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’ممبئی حملوں پر بیان کے بعد کی صورتحال میں نواز شریف کے ساتھ ہوں‘

عطا مانیکا کا کہنا تھا کہ انہیں تحفظات ہیں اور وہ ان تحفظات کا اظہار متعدد مرتبہ کرچکے ہیں تاہم صرف تسلی دی جاتی ہے، ہوتا کچھ نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’میں مسلم لیگی ہوں اور مسلم لیگ میں رہوں گا لیکن پارٹی میں امیدواروں کیلئے عزت اور اختیار کی جنگ لڑوں گا۔

صوبائی وزیر مال کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سیکریٹریز نے حکومت کی ہے جبکہ پارٹی کے معاملات میں بھی کئی سیکریٹریز مداخلت کرتے رہے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے سیکریٹریز کو خود کہا تھا کہ وزراء اور امیدواروں کے کام نہیں کرنے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ پنجاب میں وزراء اپنے اپنے محکموں میں بااختیار نہیں ہیں جبکہ وزیراعلی شہباز شریف اور نواز شریف عوام کو دھوکہ دیتے رہے ہیں اور دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’نواز شریف کے بیان پر بھارت میں خوشیاں منائی گئیں‘

مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے رویے پر عطا مانیکا کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) 50 سے 52 کے قریب نشستیں ہی لے پائے گی جبکہ حکومت تحریک انصاف کی بھی بنتی نظر نہیں آرہی۔

ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کا بیان

یاد رہے کہ نواز شریف نے ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس بیان کو غداری سے منسوب کرتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی قائد کے بیان کو بھارتی میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا اور بدقسمتی سے پاکستان الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ایک حلقے نے بھارتی پروپیگنڈے کی توثیق کردی۔