حافظ سعید کی ممکنہ گرفتاری، حکم امتناع میں 27 جون تک کی توسیع

شائع May 23, 2018 اپ ڈیٹ May 23, 2018 04:47pm

لاہور ہائی کورٹ نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو تاحکم ثانی غیرقانونی طور پر پریشان اور ہراساں کرنے سے روکنے کے اپنے حکم امتناع میں 27 جون تک کی توسیع کر دی۔

لاہور ہائی کورٹ میں جماعت الدعوۃ کی فلاحی سرگرمیوں میں حکومتی رکاوٹوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، مذکورہ درخواست پر جسٹس امین الدین خان نے سماعت کی۔

عدالت عالیہ نے درخواست گزار کو تاحکم ثانی ناقانونی طور پر پریشان اور ہراساں کرنے سے روکنے کے اپنے حکم امتناع میں 27 جون تک کی توسیع کر دی۔

ادھر عدالت کے روبرو وفاق اور پنجاب حکومتوں کے وکلاء نے پیش ہو کر جواب کے لیے مہلت مانگی، جس پر عدالت نے دونوں حکومتوں کو 27 جون تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

مزید پڑھیں: حکومت کو حافظ سعید کی فلاحی سرگرمیوں میں تاحکم ثانی مداخلت سے روک دیا گیا

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 11 مئی کو مذکورہ درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کی تھی۔

خیال رہے کہ جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کی تنظیم ہمیشہ سے فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حکومت نے امریکا اور بھارت کے دباؤ میں آکر جماعت کے فلاحی کاموں میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کیں۔

عدالت عالیہ کو بتایا گیا کہ کسی شخص یا جماعت کو فلاحی سرگرمیوں سے روکنا غیر آئینی اقدام ہے اور مطالبہ کیا گیا کہ عدالت حکومت کو جماعت کی فلاحی سرگرمیوں کو بحال کرنے اور ہراساں نہ کرنے کا حکم جاری کرے۔

واضح رہے کہ ہندوستان کی جانب سے 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ذمہ دار حافظ سعید کو ٹھہرایا گیا تھا جہاں 168 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ امریکا نے انھیں دہشت گرد کا درجہ دیا تھا۔

امریکا کے محکمہ انصاف نے حافظ سعید کی سزا اور گرفتاری کے حوالے سے معلومات دینے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کردیا ہے۔

یاد رہے کہ حافظ سعید کو رواں سال 31 جنوری کو 90 روز کے لیے نظر بند کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حافظ سعید کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق حکم امتناعی میں مزید توسیع

بعد ازاں ان کی نظر بندی میں مزید 3 ماہ کی توسیع کی گئی تھی جس کی میعاد 27 جولائی کو ختم ہونی تھی، تاہم 31 جولائی کو پنجاب حکومت نے نیا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس میں مزید 2 ماہ کی توسیع کردی۔

گزشتہ ماہ لاہور ہائی کورٹ کے نظرثانی بورڈ نے حافظ سعید کی نظربندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی، تاہم ان کے دیگر 4 ساتھیوں کی نظربندی میں توسیع کی حکومتی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔

حافظ سعید کو دو روز قبل 10 ماہ کی طویل نظر بندی کے بعد عدالت کے حکم پر رہا کردیا گیا تھا جس پر بھارت اورامریکا دونوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس

لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف سمیت 12 افراد کی طلبی سے متعلق کیس سماعت کی۔

لاہور ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس قاسم علی خان کررہے تھے۔

عدالت نے ٹی ایم اے کی درخواست برائے ری موونگ انکروچمنٹ اور پولس کی نفری بھیجے جانے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔

مزید پڑھیں: سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس: ڈی آئی جی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ کل ہر حال میں پیش کیا جائے جبکہ ساتھ ہی عدالت عالیہ نے عوامی تحریک کے وکلا کو مقتولین اور زخمیوں کی فہرست جمع کروانے کا حکم بھی دیا۔

علاوہ ازیں فل بینچ نے آئی جی مشتاق سکھیرا کی تقرری کا نوٹیفکیشن اور سابق آئی جی پنجاب کی ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن بھی طلب کر لیا۔

اس کے علاوہ فل بینچ نے گلو بٹ کی بریت کے فیصلے کی کاپی بھی طلب کر لی۔

واضح رہے کہ استغاثہ کیس عوامی تحریک کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت 12 سیاسی شخصیات، پولیس افسران، اہلکار اور ضلعی حکومت کے عہدیداروں کو فریق بنایا گیا تھا، تاہم عدالت نے استغاثہ میں سے سیاسی شخصیات کے نام ختم کر دیئے تھے۔

12 اپریل کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں 115 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں تحریک منہاج القران کے مرکزی سیکریٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔

آپریشن کے دوران پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت کے دوران ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 90 کے قریب زخمی بھی ہوئے تھے۔

بعدازاں حکومت نے اس واقعے کی انکوائری کروائی، تاہم رپورٹ کو منظرعام پر نہیں لایا گیا، جس کا مطالبہ سانحے کے متاثرین کے ورثاء کی جانب سے متعدد مرتبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس: شریف برادران کی طلبی کی درخواست فل بینج کو ارسال

گزشتہ برس اگست میں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ منظر عام پر لانے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

ان افراد کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 2014 میں ہونے والے ماڈل ٹاؤن سانحے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے پنجاب حکومت کے حوالے کردی تھی، جسے منظرعام پر نہیں لایا گیا۔

تاہم بعد ازاں عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد حکومت جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو عام کردیا گیا۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026