اسد درانی کی کتاب: فوج کا معاملے کی تحقیقات کا اعلان

اپ ڈیٹ 28 مئ 2018

ای میل

فوٹو: بشکریہ الجزیرہ
فوٹو: بشکریہ الجزیرہ

راولپنڈی: پاک فوج نے پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی کی کتاب سے متعلق معاملات کی تحقیقات کا اعلان کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کے خلاف حاضر سروس لیفٹننٹ جنرل کی سربراہی میں تحقیقات کی جائے گی۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا کہ مجاز اتھارٹی نے اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) میں شامل کرنے کے لیے رابطہ کرلیا۔

مزید پڑھیں: کتاب پر پوزیشن واضح کرنے کیلئے اسد درانی کو طلب کرلیا،آئی ایس پی آر

خیال رہے کہ پاک فوج نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کو ان کی کتاب ’ دی اسپائی کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ الیوژن آف پیس‘ پر پوزیشن واضح کرنے کے لیے جی ایچ کیو طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارت کے ریسرچ اینالسز ونگز (را) کے سابق سربراہ اے ایس دولت کی جانب سے مشترکہ طور پر تحریر کردہ کتاب ’دی اسپائی کرونیکلز‘ کی اشاعت کی گئی ہے، جس میں کئی متنازع موضوعات پر بات کی گئی ہے۔

اس کتاب کے سامنے آنے کے بعد پاک فوج کی جانب سے بیان سامنے آیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسد درانی کو ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر پوزیشن واضح کرنا ہوگی، کیونکہ اس کا اطلاق تمام حاضر اور ریٹائرڈ اہلکاروں پر ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ اسد درانی کی کتاب میں جو موضوعات زیر بحث آئے ہیں ان میں کارگل آپریشن، ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز کا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی لکھی گئی کتاب کی اشاعت

سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی اس کتاب کو سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی نے اسد درانی کی کتاب پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا ’اگر یہ کتاب کسی سویلین یا سیاستدان نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر لکھی ہوتی تو آسمان سر پر ہوتا اور کتاب لکھنے والے سیاستدان پر غداری کے فتوے لگ رہے ہوتے۔‘

انہوں نے سوال کیا تھا کہ ’کیا سابق جنرل اسد درانی نے اپنے ادارے یا وفاقی حکومت سے اس بات کی اجازت لی تھی، یہ چھوٹا مسئلہ نہیں ہے، دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کا ایک سلسلہ ہے اور وفاقی وزیر قانون نے کتاب سے متعلق اجازت مانگنے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔‘