اسرائیل سے ملحقہ سرحد پر جاری مظاہروں کے دوران جاں بحق ہونے والی فلسطینی نرس کی آخری رسومات ادا کردی گئیں جن میں ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق غزہ وزارتِ صحت کے ساتھ کام کرنے والی 21 سالہ رازان النجار خان یونس میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے ہوئے اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئی تھیں۔

فلسطینی نرس کی تدفین کے موقع پر ایمبولینسز اور میڈیکل کے عملے کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: فلسطین کا آئی سی سی سے اسرائیل کے خلاف فوری تحقیقات کا مطالبہ

اس موقع پر رازان النجار کے والد نے اپنے ہاتھ میں ان کی وہ مخصوص میڈیکل جیکٹ تھام رکھی تھی جو انہوں نے اس وقت پہنی ہوئی تھی جب اسرائیلی فورسز نے انہیں نشانہ بنایا۔

تدفین میں شریک افراد نے اسرائیل مخالف نعرے لگائے اور جاں بحق نرس کے قتل کے بدلے کا مطالبہ کیا۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ رازان النجار کی آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد بھی اسرائیلی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج کی نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ فائرنگ

خیال رہے کہ فلسطینیوں کا 30 مارچ سے 1948 سے ان کی سرزمین چھن جانے اور انہیں اپنی زمین سے بے دخل کیے جانے کے 70 سال مکمل ہونے پر اسرائیل کے ساتھ سرحد پر احتجاجی مظاہرہ جاری ہے، جہاں وہ اپنی زمین کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی روز غزہ کی پٹی میں سرحدی باڑ پر احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 15 فلسطینی جاں بحق اور 1400 زخمی ہوگئے تھے جو 2014 کے بعد ایک روز میں پیش آنے والے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔

یاد رہے کہ فلسطین میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے اور اس کے افتتاح کے خلاف احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ اور تشدد سے 58 افراد ہلاک اور 2400 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں