صاف پانی کمپنی کیس: شہباز شریف کو عدم پیشی پر دوبارہ طلبی کا نوٹس

اپ ڈیٹ 04 جون 2018

ای میل

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف صاف پانی کمپنی میں مبینہ کرپشن کیس میں آج (پیر کو) طلبی پر خود پیش نہیں ہوئے تاہم ان کی جانب سے ان کے نمائندے کے ذریعے سوالات کے جوابات جمع کروا دیئے گئے ہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور میں صاف پانی انکوائری میں شہباز شریف کو آج ریکارڈ سمیت طلب کیا گیا تھا، وہ بیورو کے سامنے پیش نہ ہوئے۔

شہباز شریف نے اپنے نمائندے امیر افضل کو سوالنامے کا جواب دے کر بھجوا دیا، جس نے نیب کی طلب کردہ تفصیلات فراہم کر دیں۔

نیب حکام کے مطابق شہباز شریف کو صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہونے کی حیثیت سے طلب کیا گیا تھا، کیونکہ انہوں نے ہی کمپنی کے مبینہ غیر قانونی منصوبوں کی منظوری دی تھی۔

شہباز شریف کو پیر کے روز پیش نہ ہونے پر 25 جون کو نیب کے لاہور آفس میں دوبارہ طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کے داماد مسلسل تیسری مرتبہ نیب تحقیقات میں پیش نہیں ہوئے

یاد رہے کہ نیب لاہور نے چیئرمین نیب کے حکم پر صاف پانی اسکینڈل کی انکوائری شروع کررکھی ہے۔

صاف پانی کمپنی انکوائری میں وزیر اعلیٰ کے داماد علی عمران، سابق صوبائی وزیر خزانہ عائشہ غوث اور سابق رکن صوبائی اسمبلی وحید گل پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں۔

ایک روز قبل سابق پنجاب حکومت کے ترجمان ملک محمد احمد نے ڈان کو بتایا تھا کہ ’صاف پانی کمپنی کیس سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے لیے شہباز شریف پیر کو نیب کے سامنے پیش ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف نے مکمل دیانتداری اور جذبے سے صوبے کے عوام کی خدمت کی اور وہ انکوائری کے حوالے سے ہر معاملے کی وضاحت کریں گے۔‘

اپریل میں صاف پانی کمپنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ منصوبے پر 4 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود شہریوں کو صاف پانی کی ایک بوند بھی نہیں ملی۔

یہ بھی پڑھیں: صاف پانی از خود نوٹس: معاملے کی تحقیقات نیب کے حوالے کرنے کا انتباہ

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نے عدالت کو بتایا تھا کہ اب تک تقریباً 30 کروڑ روپے غیر ملکی کنسلٹنٹس کی خدمات پر خرچ کیے جاچکے ہیں، مکمل منصوبے کے لیے تقریباً 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 4 ارب روپے کی لاگت سے صاف پانی کے 116 پلانٹس لگائے گئے۔

واضح رہے کہ نیب نے پنجاب میں شہباز شریف انتظامیہ کی جانب سے قائم کی گئیں 56 سرکاری کمپنیوں میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا گزشتہ سال نومبر میں آغاز کیا تھا۔

ان کمپنیوں پر بےضابطگیوں، خریداری میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، میرٹ کی خلاف ورزی، اقربا پروری اور وقت پر کئی منصوبے مکمل نہ کرنے کا الزام ہے۔