بحریہ ٹاؤن کراچی میں بغیر این او سی تعمیرات کا انکشاف

11 جون 2018

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیے گئے دعویٰ کو درست مان لیا جائے تو بحریہ ٹاؤن کراچی میں ہونے والی تعمیرات، تعمیراتی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار پائیں گی۔

کراچی کے ضلع ملیر میں زیر تعمیر اس وسیع و عریض آبادی کے بارے میں یہ تہلکہ خیز انکشاف حال ہی میں سامنے آیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ 4 مئی کو بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے زمین کے حصول میں بے ضابطگیوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا تھا، جس میں سندھ انتظامیہ اور اس مکروہ دھندے میں مبینہ طور پر ملوث صوبے میں زمین کے معاملات دیکھنے والی بیوروکریسی کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی: لالچ اور قبضے کا لامحدود سلسلہ

خیال رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ایک ایسا انتظامی ادارہ ہے جو تعمیراتی نقشوں اور سندھ میں ہونے والی تعمیرات اور بلڈنگ کی منصوبہ بندی کی منظوری دیتا ہے۔

ایس بی سی اے کی رپورٹ میں ایک ٹائم لائن دی گئی ہے جس کا مقصد اس بات کی وضاحت کرنا ہے کہ کس طرح بحریہ ٹاؤن نے ان تمام قوانین و ضوابط کو پس پشت ڈال دیا جس پر اسے تعمیراتی کام شروع کرنے سے قبل بتدریج عمل کرنا تھا۔

دستاویزات کے مطابق ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پہلی مرتبہ 20 مارچ 2014 کو ایک ہزار 3 سو 30 ایکڑ زمین کے لے آؤٹ پلان کی منظوری دی تھی۔

مزید پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی: سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار

اور اسی دن بحریہ ٹاؤن ایگزیکٹو ڈائریکٹر زین ملک کو شریک مالک کے خصوصی اختیارات کے تحت ایس بی سی اے نے 3 ہزار 98 رہائشی اور 7 سو 48 کمرشل پلاٹ کی فروخت اور اشتہارات کے لیے مشروط طور پر این او سی جاری کیا تھا۔

دیگر امور کے علاوہ متعلقہ این او سی کے لیے تمام پلاٹس کی پاور آف اٹارنی اور قرضے کی رجسٹریشن (15 فیصد) کے لیے ضروری کاغذات 3 ماہ میں جمع کرانا ضروری تھا۔

اس سلسلے میں ( ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی) ایم ڈی اے نے 4 ہزار 6 سو 96 ایکڑ کے دوسرے لے آؤٹ پلان کی منظوری 21 اگست 2014 کو دی تھی جو اس سے قبل ایک ہزار 3 سو 30 ایکڑ کے پلان سے مربوط تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی:الاٹمنٹ غیر قانونی قرار، پلاٹس کی فروخت روکنے کا حکم

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایس بی سی اے نے 2 اپریل 2015 کو 4 ہزار 6 سو96 ایکڑ پر محیط ایک ہزار 55 گراؤنڈ پلس ون مکانات کی منظوری دے دی تھی، لیکن چونکہ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے پچھلے این او سی میں نافذ کی گئی شرائط پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تھا چناچہ ان مکانات کی فروخت یا اشتہار کے لیے این او سی نہیں جاری کیا گیا۔

مذکورہ ایک ہزار 55 مکانات میں سے 4 سو 44 مکانات کے لیے انفرادی عمارت کا منصوبہ ایس بی سی اے میں جمع کرایا گیا تھا لیکن منظوری زیر التوا رہی، کیوں کہ بلڈر کی جانب سے پہلے نافذ کی گئیں شرائط کو پورا نہیں کیا جارہا تھا۔

بعدازاں جولائی 2015 میں 10 اپارٹمنٹس کا منصوبہ بھی جمع کرایا گیا اور وہ بھی انہی وجوہات کے بنا پر زیر التوٰا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کا بحریہ ٹاؤن کراچی پر 90ارب روپے کی زمین پر قبضے کا الزام

ایس بی سی اے کی رپورٹ کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی منظوری کے بغیر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں، ا س ضمن میں رہائشی اور کمرشل بلڈنگز کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جس میں 9 ہزار 3 سو 13 ولاز، 51 اپارٹمنٹس، 4 آفسز بلڈنگز، اور 10 عوامی عمارات، مثلاً ریسٹورنٹس، ایک ہسپتال، ایک کلب ہاؤس، پارکس اور ڈانسنگ فاؤنٹین کے علاوہ گرینڈ مسجد سمیت 2 مساجد شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مندرجہ بالا تمام عمارتیں ایس بی سی اے کی این او سی حاصل کیے بغیر یا تو زیر تعمیر ہیں یا تعمیر ہوچکی ہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاؤن کراچی کو تعمیراتی کام روکنے کا حکم

واضح رہے کہ ایس بی سی اے نے حال ہی میں اخبارات میں ایک فہرست شائع کی ہے جن میں ان تمام ہاؤسنگ اسکیموں کا ذکر ہے جو یا تو غیر قانونی ہیں،یا لینڈ مافیا کی بنائی گئیں ہیں۔

اشتہار میں عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ مذکورہ منصوبوں میں خرید و فروخت سے گریز کریں، لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس فہرست میں بحریہ ٹاؤن کراچی کا ذکر نہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں