چلی: بچوں کے ساتھ ریپ میں ملوث 3 پادریوں کا استعفیٰ منظور

اپ ڈیٹ 12 جون 2018

ای میل

ویٹی کین سٹی: پاپائے روم فرانسس نے بچوں کے ساتھ ریپ کے اسکینڈل میں ملوث چلی کے 3 پادریوں کے استعفے منظور کرلیے۔

منظور کیے گئے استعفوں میں بشپ جوئن باروس کا بھی استعفیٰ ہے جن پر ریپ کے کیس کو چھپانے کی کوشش کا الزام ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ویٹی کین میں پوپ فرانسس کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد چلی کے پادریوں نے اپنے استعفے پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: لڑکی کے ریپ اور قتل میں ملوث 14 مشتبہ افراد گرفتار

اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ پادریوں کی جانب سے پیش کردہ مشترکہ استعفیٰ دو دہائی قبل دیا گیا۔

خیال رہے کہ جنوبی امریکی ریاست چلی میں کیتھولک چرچ کی اعلیٰ شخصیات پر الزام ہے کہ انہوں نے 80 اور 90 ویں کی دہائی کے درمیانی عرصے میں پادری فرنینڈوکرادیما کے بچوں کے ساتھ جنسی جرائم پر پردہ ڈالنے یا نظرانداز کرنے کی کوششیں کیں۔

رواں برس جنوری میں 61 سالہ بشپ جوئن باروس پر الزام تھا کہ انہوں نے فرنینڈو کرادیما کی خرافات کو چھپانے کی کوشش کی۔

مزیدہ پڑھیں: ہاروی وائنسٹن پر جنسی جرائم اور ’ریپ‘ کے تحت فرد جرم عائد

واضح رہے کہ ویٹی کین نے فرنینڈو کرادیما پربچوں کے ساتھ ریپ کے الزامات کی بنیاد پر انہیں تاحیات منصب سے معطل کردیا تھا۔

پاپائے روم فرانسس نے مئی میں فرنینڈو کرادیما کے متاثرین تین پادریوں سے ملاقات کی جس کے بعد جان کارلوس نے کہا کہ ‘چلی میں کیتھولک چرچ کے لیے نیا دن ہے، 3 کرپٹ بشپ باہر نکال دیئے گئے’۔

واضح رہے کہ چلی میں سال 2000 کے بعد سے اب تک 80 کیتھولک پادریوں کے خلاف بچوں کے ساتھ ریپ کے کیس درج ہو چکے ہیں۔

یہ پڑھیں: ’خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنا ہولی وڈ تک محدود نہیں‘

پاپائے پوپ فرانسس نے 2015 میں بشپ جوئن باروس کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا لیکن انہوں نے فرنینڈو کرادیما پر عائد الزامات کو چھپانے کی کوشش کی۔


یہ خبر 12 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی