افغانستان: امریکی ڈرون حملے میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاعات

اپ ڈیٹ 15 جون 2018

ای میل

واشنگٹن: امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے صوبے کنڑ میں ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ ملا فضل اللہ کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا ریڈی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’امریکی فوجی حکام نے انہیں اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی ڈرون حملے میں پاکستانی سرحد کے قریب افغان صوبے میں ٹی ٹی پی کے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا تھا‘۔

مزید پڑھیں: امریکا نے ملا فضل اللہ کے سر کی قمیت 55 کروڑ روپے مقرر کردی

دوسری جانب امریکا کے سرکاری ریڈیو کی جانب سے بھی کہا گیا کہ ڈرون حملے میں ملافضل اللہ کی ہلاکت کے دعوے کی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں۔

اس حوالے سے ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ بدھ کو رات گئے ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نشانہ تھے لیکن وہ ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کرسکتے۔

ادھر افغانستان میں امریکی فورسز کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل مارٹن اوڈونیل نے وائس آف امریکا کو بتایا کہ ’امریکی فورسز نے 13 جون کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کے قریب کنڑ صوبے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائی کی تھی، جس میں کالعدم تنظیم کے سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا تھا‘۔

پینٹاگون حکام سے جب وائس آف امریکا کی رپورٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت اس بات کی تصدیق کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملا فضل اللہ ٹی ٹی پی سربراہ مقرر

یاد رہے کہ یہ حملہ افغان طالبان اور حکومتی سیکیورٹی فورسز کے درمیان 7 روزہ جنگ بندی کے معاہدے کے درمیان کیا گیا۔

اس معاہدے کے تحت افغان شہریوں کو رمضان کے آخری ایام اور عید کو پر امن طریقے سے منانے کی اجازت دی گئی تھی اور کسی طرح کے حملے سے منع کیا گیا تھا۔


یہ خبر 15 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی