خاصہ دار فورس کا ملازمتیں مستقل کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 23 جون 2018

ای میل

لنڈی کوتل: خیبرپختونخوا میں خاصہ دار فورس نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی ملازمتوں کو ریگولرائز کیا جائے اور انہیں بھی صوبے کی دیگر پولیس کی طرح متوازی سطح پر مراعات فراہم کی جائیں۔

جمرود میں خاصہ دار فورس کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے بعد ان کو ملازمتوں سے فارغ کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی منظوری

اس حوالے سے ہونے والے اجلاس میں شامل شرکاء نے واضح کیا کہ انہیں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ ریگولر پولیس فورس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

صوبیدار میجر ولی محمد شلمانی نے کہا کہ خاصہ دار اہلکاروں کو نئی پولیس فورس کی تشکیل کے دوران بے دخل کیے جانے کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خاصہ دار فورس نے دہشت گردوں کے خلاف ناقابل تلافی نقصان برداشت کیا اور امن و امان کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے اس لیے انہیں بے دخل کرنا مناسب نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ولی محمد قبائلی علاقوں میں 2 ہزار 800 خاصہ دار فورس کی کمانڈ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کیلئے سفارشات

ولی محمد کا کہنا تھا کہ ’خاصہ دار فورسز کی خدمات کو نظر انداز کرنا انتہائی قابل مذمت ہوگا‘۔

خاصہ دار حکام جہانگیر خان نے بتایا کہ ’وہ گزشتہ 26 برس سے فرائض انجام دے رہے ہیں، جمرود اور باڑا میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور خدمات پیش کیں لیکن اب صوبائی حکومت مجھ سمیت میرے ساتھیوں سے چھٹکارا چاہتی ہے جبکہ ہماری آمدنی کا واحد ذریعہ یہی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت خاصہ دار فورسز کی قربانیوں کو نہیں بھلا سکتی ’میں اپنے اہلخانہ کے 6 افراد کھو چکا ہوں جب انسداد پولیو ٹیم کو بچاتے ہوئے دہشت گردوں نے خاصہ دار اور لیویز پر حملہ کیا‘۔

لنڈی کوتل سے خاصہ دار افسر سفیر اللہ شنواری نے شکایت کی کہ ایجنسی ڈیولپمنٹ فنڈ پرپابند سے خاصہ دار فورسز کی کاررکردگی بری طرح متاثرہورہی ہے اور اب وہ انسداد پولیو ٹیم اور سرکاری حکام کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام: عمران خان نے عدالت سے رجوع کرلیا

ان کا کہنا تھا کہ ملازمت سے بے دخل کرنے سے خاصہ دار اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔


یہ خبر 23 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی