’بھارت میں پاکستانی قیدیوں کو عبادت تک نہیں کرنے دی جاتی‘

اپ ڈیٹ 24 جون 2018

ای میل

سیالکوٹ: بھارتی قید سے آزاد ہوکر پاکستان آنے والے شہری کا کہنا ہے بھارت میں قید پاکستانی ابتر صورتحال سے دو چار ہیں، اور انہیں عبادت کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی۔

بھارت نے گزشتہ 11 سال سے قید پاکستانی شہری محمد یاسین کو رہا کردیا جس کے بعد وہ پسرور تحصیل میں اپنے آبائی گاؤں چاہال پہنچ گیا۔

گاؤں باسیوں نے گرم جوشی کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور اس پر پھول برسائے، جبکہ خوشی میں مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔

محمد یاسین سیالکوٹ میں ورکنگ باؤنڈری پر غلطی سے سرحد پار کرکے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہوگیا تھا جہاں اسے بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) نے گرفتار کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارتی جیلوں سے 39 پاکستانی شہری رہا

محمد یاسین کو 2 سال کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم سزا پوری ہونے کے باوجود محمد یاسین 11 سال تک بھارتی جیل میں قید رہے۔

محمد یاسین نے پاکستانی قیدیوں کی روداد سناتے ہوئے کہا کہ بھارت میں قید پاکستانی ابتر زندگی گزار رہے ہیں۔

اس نے دعویٰ کیا کہ قید میں موجود پاکستانیوں پر جیل حکام کی جانب سے بے جا تشدد کیا جاتا ہے اور انہیں کئی دنوں تک بھوکا بھی رکھا جاتا ہے۔

محمد یاسین نے مزید بتایا کہ پاکستانی قیدیوں کو بھارتی جیلوں میں نماز اور دیگر عبادات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں: جذبہ خیر سگالی کے تحت 147 بھارتی ماہی گیر پاکستانی جیلوں سے رہا

انہوں نے کہا کہ وہ اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں کہ بھارتی جیل میں اپنی زندگی کے 11 سال گزار کر وہ باحفاظت اپنوں کے پاس واپس پہنچ گئے ہیں اور اپنے اہلِ خانہ سے مل کر بہت خوش ہیں۔

دریں اثنا بی ایس ایف نے ایک ضعیف العمر پاکستانی شخص کو جذبہ خیرسگالی کے تحت واپس پاکستان رینجرز کے حوالے کردیا۔

پنجاب رینجرز کے مطابق 75 سالہ سائیں خان ولد نتھو خان نخنال چاروا سیالکوٹ کے رہائشی ہیں جو 22 جون کو غلطی سے سرحد پار کرکے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہوگئے تھے۔

بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے سائیں خان سے تفتیش کے بعد انہیں پنجاب رینجرز کے حوالے کیا جنہوں نے اس شخص کو اس کے اہلِ خانہ سے ملوادیا۔


یہ خبر 24 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی