یونیورسٹی اساتذہ کی ترقیوں اور تقرریوں کا ’کھیل‘

اپ ڈیٹ 01 جولائ 2018

ای میل

حال ہی میں مجھے سرکاری یونیورسٹی کے سوشل سائنس شعبے سے وابستہ ایک استاد کی فائل کا جائزہ لینے کا اتفاق ہوا جنہیں سینئر پوزیشن پر ترقی دینے کا امکان تھا۔ فائل کو دیکھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ان صاحب نے ایک ہی سال میں 11 تحقیقی مقالے شائع کروائے تھے وہ بھی ایک ہی جرنل میں۔ جن میں سے چند مقالوں کے وہ واحد محقق تھے جبکہ دیگر میں شریک محقق پائے گئے۔

ایک سال میں ہی 11 اشاعتیں اور وہ بھی سوشل سائنس میں کی گئی تحقیق کے ساتھ! یا تو وہ صاحب انتہائی جینئس تھے یا پھر مذاق ہو رہا تھا۔ سوشل سائنس کا کوئی بھی معیاری جریدہ ایک ہی محقق کے ایک ہی سال میں 11 مقالے شائع نہیں کرے گا، چاہے وہ جریدہ ہر تھوڑے وقفے کے ساتھ اپنی نئی اشاعت جاری کرتا ہو۔

میں نے فوراً جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا اور تھوڑی ہی محنت کے بعد یہ پتہ چلا کہ جریدے میں جب سے ان صاحب نے اپنے تحقیقی مقالے چھاپنے شروع کیے تھے اس سے محض ایک سال قبل ہی اس جریدے کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تسلیم کیا تھا۔ جن وقتوں میں ان صاحب کے مقالے چھپتے رہے ان وقتوں کے دوران ایچ ای سی نے جریدے کی رینکنگ میں اضافہ بھی کیا لیکن اس کے ایک سال بعد ہی ایچ ای سی نے اس جریدے کو اپنے تسلیم شدہ جریدوں کی فہرست سے نکال دیا۔

اگر یہ محض اتفاق تھا تو یہ اتفاق ان استاد محترم کے لیے کافی مبارک ثابت ہوا کیونکہ وہ ایک ہی سال میں، ایک ہی جریدے میں، ایچ ای سی کی تصدیق کے ساتھ اپنے 11 تحقیقی مقالوں کو شائع کروانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ یوں وہ ترقی اور سینئر عہدوں پر تقرری کے لیے ہائیر کمیشن کی تمام مطلوبات پر پورا اترسکتے تھے۔

مزید پڑھیے: کیا پاکستان میں بیروزگاری خراب تعلیمی معیار کی وجہ سے ہے؟

تو کیا سسٹم میں کوئی ’کھیل‘ کھیلا جا رہا ہے؟ اگر ہاں تو وہ وہ کون سے کھلاڑی ہیں جو نظام سے کھلواڑ کر رہے ہیں؟ اتنا ہی ضروری یہ بھی سوال ہے کہ کیا یہ کھیل کوئی اچھے معیار کی تحقیق بھی پیدا کر رہی ہے؟ اگر کوئی کھیل کھیلا جا رہا ہے تو کیا اس کے ساتھ اچھے معیار کی تحقیق حاصل ہو رہی ہے اور ہم اس کھیل کو کسی حد تک ہضم بھی کرسکتے ہیں؟

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ جب پہلی بار اس صورتحال کا اندازہ ہوا تب سے میں نے اس مسئلے پر زیادہ محتاط انداز میں جائزہ لینا شروع کردیا، جس کے نتیجے میں مجھے ایسی کئی مثالیں دیکھنے کو ملیں۔

ایک اور استاد، جو ایک نجی یونیورسٹی کے کام کرتے ہیں بلکہ اپنے شعبے کے وقتی سربراہ بھی ہیں، انہوں نے محض 18 ماہ کے اندر ایک ہی جریدے میں اپنے 17 تحقیقی مقالے شائع کروائے۔ اس کیس میں بھی وہی کہانی تھی۔ ان کے مقالوں کی اشاعت کے وقت وہ جریدہ ایچ ای سی سے تسلیم شدہ تھا، لہٰذا انہیں اس میں اپنی تحقیق کی اشاعت کا فائدہ حاصل ہوگیا، مگر 17 اشاعتیں اور وہ بھی ایک جریدے میں! مجھے لگتا ہے کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ والوں کی نظریں یہاں نہیں پڑتی۔

پاکستان میں اساتذہ واضح طور پر ان کے لیے متعین کردہ فوائد کے بدلے کام کر رہے ہیں۔ ایچ ای سی اساتذہ سے مدت میعاد کے دوران ’تسلیم شدہ‘ اشاعتیں مانگتی اور پھر ان اشاعتوں، امپیکٹ فیکٹرز اور ان کی سائٹیشن (حوالاجات) کی بنیاد پر ترقیاں دی اور اس کے ساتھ ڈین، وائس چانسلر اور دیگر اہم عہدوں پر تقرریاں کی جاتی ہیں۔ لیکن ان اساتذہ کا تحقیقی کام کس قدر معیاری ہے؟

میں یہاں ایک طرف سوشل سائنسز اور ہیومینٹیز کے درمیان فرق اور دوسری طرف فیزیکل سائنس کے فرق کو واضح کردینا چاہتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ پیور سائنس کے چند شعبوں، بالخصوص کیمسٹری جیسے شعبے جن میں تجرباتی بنیاد پر تحقیق انجام دی جاتی ہے، سے وابستہ اساتذہ کے کئی تحقیقی مقالے شائع کیے جاتے ہیں اور سائنسی جریدے چند صورتوں میں سال میں ایک سے زائد بار شائع ہوتے ہیں۔ مگر سوشل سائنس شعبے میں ایسا نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیے: اساتذہ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اچھا طریقہ کیا؟

سوشل سائنس میں تجرباتی یا مشاہداتی کام میں کافی عرصہ درکار ہوتا ہے کیونکہ تحقیق کا دار و مدار سروے اور/ یا دیگر مواد محقق خود فیلڈ میں جاکر حاصل کرتا ہے۔ فیلڈ تجربے کیے جائیں تو ان کی تیاری اور تکمیل کے لیے کم از کم برسوں درکار ہوتے ہیں۔ .

مگر ایچ ای سی نے اساتذہ اور دیگر محققین کو فوائد دینے کی شرائط کو بہت ہی مختلف انداز میں متعین کیا ہے کیونکہ اب تحقیقی کام کا زیادہ تر زور تعداد پر ہے جس کی وجہ سے معیار کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔

مذکورہ 28 تحقیقی مضامین میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں کہ جو پڑھنے کے قابل ہو یا پھر اس کے بارے میں بات کی جاسکے۔ ان تحقیق سے نہ تو متعلقہ شعبوں میں علم کا کوئی اضافہ ہوا ہے، نہ ہی کوئی نیا فکری پہلو ہے، نہ ہی ان میں کوئی دلچسپ مثالیں شامل ہیں، نہ ہی ان میں نظریات یا تھیوریز میں توسیع کی گئی ہے بلکہ اس کا عملی جائزہ نظر تک نہیں آتا، اور نہ اس کے ساتھ کوئی بھی دلچسپ پالیسی کا فکری پہلو دیا گیا ہے۔ ایسے تحقیقی مقالوں کو گننے اور ترقیوں اور تقرریوں کی بنیاد بنانے کی کیا تک بنتی ہے؟

حتیٰ کہ حوالاجات یا سائٹیشن کے اعداد کے ساتھ بھی ’کھلواڑ‘ کیا جا رہا ہے۔ محقق اپنے ہی لکھے ہر تحقیقی مضمون کا حوالہ دیتے ہیں، محققین کا گروپ اپنی سائٹیشن یا حوالاجات کی تعداد بڑھانے کی خاطر ایک دوسرے کو سائیٹ کرتے ہیں۔

ایچ ای سی کی پالیسی کو وقت کے ساتھ بہتر ہونا چاہیے اور اس کے حاصل ہونے والے نتائج دیکھنے کے لیے اس کے عمل درآمد اور مقاصد سے لے کر پالیسی میں تبدیلی اور اصلاح تک مسلسل جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔

جب ایچ ای سی قائم ہوئی اور جب اس کے ابتدائی سال تھے تب ممکن ہے کہ معیار کے بجائے تعداد ضروری رہی ہو مگر اس وقت بھی ایسی پالیسی کا انتخاب کچھ اچھا نہیں تھا اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی، اس سے کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں ہو رہا۔ ہمیں اب فیکلٹی کے لیے متعین کردہ فوائد یا رعایات کو دوبارہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہتر معیار کے تحقیقی کام کو ممکن بنایا جاسکے۔

مزید پڑھیے: پرائیوٹ اسکول ہے تو اچھا ہی ہوگا! اس غلط فہمی کو دور کرلیجیے

یہاں پالیسی کا مفصل ڈیزائن تو نہیں بتایا جاسکتا، لیکن چند تبدیلیوں کی ضرورت تو واضح ہے۔ اعداد کے علاوہ تھوڑا بہت فائدہ معیار کی بنیاد پر دینا چاہیے اور معیار کا فیصلہ صرف ان باتوں پر نہ ہو کہ آیا تحقیقی مضمون کہیں شائع ہوا ہے یا نہیں یا پھر کتاب لکھی ہے یا نہیں۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پیئر ایویلیوشن بھی اہم ہے، مثلاً آیا متعلقہ مضمون میں تحقیق پر کوئی کام ہوا اور/ یا ہم پلہ محققین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی یا نہیں؟ ہم پلہ محققین کا فیصلہ سیاق و سباق کے ساتھ ہو۔ نہ صرف بین الاقوامی ہم پلہ محققین سے خدمات لی جائیں بلکہ مقامی محققین سے بھی مدد لی جائے۔

کیا ایچ ای سی ملک کے اندر اساتذہ کے لیے رعایت اور فوائد دینے کی کوئی زیادہ معنی خیز پالیسی مرتب کرسکے گی؟ اگر ایسا نہیں کرتی تو موجودہ کھیلا جارہا کھیل جاری رہے گا اور ملک میں تعلیم کا معیار خراب ہی رہے گا۔

یہ مضمون 29 جون 2018ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

ترجمہ: ایاز احمد لغاری