بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے پناہ گزین کمیپوں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کا میانمار کے صوبے رخائن میں اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹنا ابھی خطرے سے خالی نہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق آئی سی آر سی کے صدر پیٹر موریر کا کہنا تھا کہ ان کے حالیہ دورہ رخائن میں انہوں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقے میں قائم چکمکول کیمپ کے دورے کے موقع پر پیٹر موریر کا کہنا تھا کہ دورے کے دوران میرے مشاہدے میں اجڑے ہوئے گاؤں، برے حالات کا شکار بازار، ذریعہ معاش کا فقدان سامنے آیا جس کے باعث میرے خیال میں پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے ابھی صورتحال سازگار نہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق میانمار کی جانب سے پہلے ہی کہا جاچکا ہے کہ وہ 7 لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس لینے کو تیار ہے جو گزشتہ برس اگست سے بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کر گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی ٹیم کی روہنگیا متاثرین سے ملاقات: ’ریپ اور قتل کے واقعات سنے‘

اس سلسلے میں میانمار حکومت کی جانب سے رخائن کی سرحد پر پناہ گزینوں کو وصول کرنے کے لیے 2 عارضی استقبالیہ کیمپ بھی قائم کیے جاچکے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگٹیریس نے بھی بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد سے ہونے والی ملاقات میں روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر گفتگو کی اور ان کی جانب سے پہلی مرتبہ روہنگیا پناہ گزین کیمپ کا دورہ بھی متوقع ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا حالیہ دورہ روہنگیا پناگزینوں کی باعزت، محفوظ اور رضاکارانہ واپسی کے حوالے سے حالات کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا۔

مزید پڑھیں: میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے، اقوام متحدہ

واضح رہے کہ بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان گزشتہ برس نومبر میں روہنگیا کی واپسی کا سمجھوتہ طے پایا تھا، تاہم اکثریت اپنی حفاظت، شہریت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کے بنا لوٹنے کو تیار نہیں۔

اس سے قبل مئی کے مہینے میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ایک وفد نے پناہ گزین کیمپ کا دورہ کیا تھا جہاں مقیم افراد نے انہیں قتل وغارت، ریپ اور گاؤں کو جلا کے خاکستر کردینے کے واقعات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: روہنگیا مہاجرین کیمپوں میں انسانی اسمگلنگ کا کاروبار عروج پر

اس ضمن میں اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ یہ پرتشدد کارروائیاں اصل میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا اقدام تھا، جو کئی سالوں سے میانمار میں مقیم تھے لیکن شہریت سے اب تک محروم ہیں، اور انہیں بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے جبکہ ان کے پاس وہاں کی شہریت بھی نہیں۔