اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے مطابق قومی اسمبلی کی 2 سو 72 نشستوں پر 3 ہزار 4 سو 59 امیدوار اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 5 سو 77 نشستوں پر 8 ہزار 3 سو 96 امیدوار انتخابات لڑیں گے۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ای سی پی کی جانچ پڑتال پر نااہل قرار پانے والے اور رضاکارانہ طور پر کاغذات نامزدگی واپس لینے والوں کی مجموعی تعداد 11 ہزار 8 سو 55 رہی۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس، چیئرمین نیب نے انتخابات پر اثر انداز ہونے کا تاثر مسترد کردیا

ای سی پی کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں امیدواروں کی تعداد میں کمی رہی، انتخابات 2013 میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر کل 4 ہزار 6 سو 71 اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر کل 10 ہزار 9 سو 58 امیدواروں نے حصہ لیا تھا جو کہ مجموعی طور پر 15 ہزار 6 سو 29 بنتی تھی۔

قومی اسمبلی کی 2 سو 72 نشستوں کے لیے پنجاب سے ایک ہزار 6 سو 23، سندھ سے 8 سو 24، خیبرپختونخوا سے 7 سو 75 اور بلوچستان سے 2 سو 87 انتخابی امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

ای سی پی کے اعداد و شمار کی رو سے پنجاب کی 2 سو 97 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر 4 ہزار 36، سندھ کی ایک سو 30 نشستوں پر 2 ہزار 2 سو 52، خیبرپختونخوا کی 99 نشستوں پر ایک ہزار ایک سو 65، بلوچستان کی 51 نشستوں پر 9 سو 43 امیدوار انتخابات لڑیں گے۔

علاوہ ازیں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما اور سیاسی قائدین انتخابات میں ایک سے زائد حلقوں سے انتخابات لڑرہے ہیں۔

مزید پڑھیں: حکمراں جماعت کو سینیٹ انتخابات میں ناکامی کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف این اے 132 (لاہور)، این اے 192 (ڈیرہ غازی خان)، این اے 249 (کراچی) اور این اے 3 (سوات) سے انتخابات لڑیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے 5 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جن میں این اے 35 (بنوں)، این اے 53 (اسلام آباد)، این اے 95 (میانوالی)، این اے 131 (لاہور) اور این اے 243 (کراچی) شامل ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کی 3 نشستوں پر انتخابات لڑیں گے، جس میں ایک خیبرپختونخوا کی نشست بھی شامل ہے۔

بلاول بھٹو زرداری این اے 6 (مالا کنڈ)، این اے 200 (لاڑکانہ) اور این اے 246 (کراچی) سے انتخابات لڑیں گے۔

واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا این اے 200 پر پی ٹی آئی کی حلیمہ بھٹو اور این اے 246 (کراچی) پر متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے محفوظ یار خان، مسلم لیگ (ن) کے سلیم ضیا اور پی ٹی آئی کے عبدالشکور شاہ سے مقابلہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کا اُمیدواروں کی سیکیورٹی پر تحفظات کا اظہار

پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا این اے 213 (شہید بینظیرآباد) کی نشست پر پی ٹی آئی فاروق چانڈیو اور مسلم لیگ (ن) کے غلام محی الدین شاہ سے مقابلہ ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام کے چیف مولانا فضل الرحمٰن این اے 38 کی نشست پر پی پی پی کے فیصل کریم کنڈی اور پی ٹی آئی کے علی امین کے مدمقابل ہوں گے جبکہ این اے 39 کی نشست پر انہیں پی ٹی آئی کے محمد یعقوب شیخ اور مسلم لیگ (ن) کے اکبر خان سے مقابلہ ہوگا۔

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار قومی اسمبلی کی 2 نشستوں این اے 59 اور این اے 63 سے انتخابات لڑیں گے جبکہ چوہدری نثار خان کے سیاسی حریف دونوں نشستوں پر ان کے مقابلے میں ہوں گے۔

عوامی مسلم لیگ کے چیف شیخ رشید احمد این اے 60 اور این اے 62 سے انتخابات لڑیں گے۔

مزید پڑھیں: لیگی امیدواروں پر ٹکٹ چھوڑنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے،نواز شریف کا الزام

جماعت اسلامی کے چیف اور سینیٹر سراج الحق این اے 7 (لوئر دیر) اور این اے 23 (چارسدہ) سے ایم ایم اے کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے چیف اسفندیار ولی خان این اے 24 (چارسدہ) میں ایم ایم اے کے پیر سید گوہر شاہ، پی پی پی کے پیر آفتاب اور مسلم لیگ (ن) کے میاں عالمگیر شاہ کے مدمقابل ہوں گے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی این اے 158 (ملتان) اور ان کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی اور علی قادر گیلانی بلترتیب این اے 157 اور این اے 154 سے انتخابی عمل کا حصہ بنیں گے۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیف محمود خان اچکزئی این اے 263 سے انتخابات لڑیں گے۔


یہ خبر 3 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی