ایم کیو ایم کے بانی رہنما سلیم شہزاد انتقال کرگئے

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2018

ای میل

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی رہنما سید سلیم الحق عرف سلیم شہزاد طویل علالت کے بعد برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں انتقال کرگئے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق سلیم شہزاد کینسر کے مرض میں مبتلا تھے جو لندن میں زیرِ علاج تھے۔

سلیم شہزاد —فوٹو:ڈان نیوز
سلیم شہزاد —فوٹو:ڈان نیوز

ان کے خاندانی ذرائع کے مطابق سلیم شہزاد کی تدفین 2 روز بعد لندن میں ہی کی جائے گی۔

ان کے سوگواران میں ایک بیوہ اور 5 بیٹیاں شامل ہیں۔

سلیم شہزاد کون ہیں؟

سلیم شہزاد کا شمار ایم کیو ایم کے بانی رہنماؤں میں ہوتا ہے، تاہم وہ گزشتہ کئی سالوں سے سیاسی منظر نامے سے غائب تھے۔

سلیم شہزاد نے 1992 میں ایم کیو ایم کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کے بعد خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی تھے اور گزشتہ 25 برس سے وہ برطانیہ کے شہر لندن میں مقیم تھے۔

اگست 2016 میں ایم کیو ایم لندن کے بانی الطاف حسین کی جانب سے اشتعال انگیز اور پاکستان مخالف تقریر کیے جانے کے بعد متحدہ کے پاکستان میں موجود سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، اس طرح ایم کیو ایم کے 2 دھڑے بننے اور رہنماؤں کے تقسیم ہونے کے باوجود سلیم شہزاد نے خود کو کسی بھی دھڑے میں شامل ہونے سے الگ رکھا تھا۔

مزید پڑھیں: سلیم شہزاد—ایم کیو ایم کی سیاست سے گرفتاری تک

سلیم شہزاد نے مارچ 2014 میں ایک بیان جاری کیا تھا کہ ایم کیو ایم میں متعدد ایسے عناصر موجود ہیں جو کراچی میں بھتہ خوری، قتلِ عام اور اسمگلنگ جیسے واقعات میں ملوث ہیں۔

اس بیان پر ایم کیو ایم نے اُسی روز ان کی پارٹی رکنیت معطل کر دی تھی، جسے بعد میں بحال نہیں کیا گیا، تاہم اس سے قبل سلیم شہزاد نے 15 اکتوبر 2015 کو ایک بیان بھی جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاست چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

سلیم شہزاد کی وطن واپسی اور گرفتاری

سلیم شہزاد 25 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد 6 فروری 2017 کو پاکستان واپس پہنچے، جہاں کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے بعد امیگریشن حکام نے ان کا پاسپورٹ ضبط کرلیا تھا، جس کے بعد پولیس نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

اس وقت کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار نے تصدیق کی تھی کہ سلیم شہزاد کو کراچی ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا، جنہیں بعدازاں گڈاپ تھانے منتقل کردیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق تھانے میں سلیم شہزاد کا ابتدائی ویڈیو بیان ریکارڈ کیا گیا، جس میں سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ وہ 22 اگست 2016 کو ایم کیو ایم لندن سے علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ ڈاکٹر عاصم کیس میں نام آنے پر وہ اپنے خلاف چلنے والی عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے وطن آئے ہیں۔

گزشتہ برس 2 دسمبر کو سلیم شہزاد نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ 16 دسمبر کو کراچی کے علاقے اورنگی ٹاون میں جلسہ کریں گے۔

سلیم شہزاد کی تحریک انصاف میں شمولیت

رواں برس 9 جنوری کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سلیم شہزاد نے بنی گالہ میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کی اور تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔

ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کا اعادہ کیا گیا۔

جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں بری

بعد ازاں کراچی کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی کے سلیم شہزاد کو جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات میں بری کردیا تھا۔

واضح رہے کہ سلیم شہزاد پر مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے 2 کارکنوں کو اغوا کے بعد قتل کرنے اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات درج تھے، جو لانڈھی پولیس اسٹیشن میں جولائی 1992 میں درج ہوئے تھے۔