پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ 25 جولائی کو انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے اور اگر 2002 کے انتخابات کو نکال دیں تو یہ تیسرے انتخابات ہوں گے جو پاکستان میں جمہوری عمل کو جاری رکھیں گے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ خوشی کی بات نہیں ہوسکتی کہ پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتیں جمہوری عمل کو آگے لے کر جارہے ہیں اور 25 جولائی کو عوام ملک کو ایک اور جمہوری دور کی جانب لے کر جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے انعقاد میں افواجِ پاکستان کا کوئی براہ راست کردار نہیں، افواجِ پاکستان کا کردار انتخابات میں الیکشن کمیشن کو صرف معاونت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں فوج کی تعیناتی کوئی پہلی مرتبہ نہیں، اس سے قبل بھی افواجِ پاکستان، الیکشن کمیشن کے حکم پر انتخابات میں فرائض انجام دیتی رہیں ہے، 1997 کے انتخابات میں 35 ہزار پولنگ اسٹیشنز پر ایک لاکھ 92 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تھے جبکہ 2002 کے انتخابات میں 64 ہزار 470 پولنگ اسٹیشنز پر ساڑھے 30 ہزار جوانوں نے سیکیورٹی کے فرائض انجام دیے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2008 کے انتخابات میں 64 ہزار 176 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے تھے، جس پر 39 ہزار اہلکاروں نے فرائض انجام دیے تھے جبکہ 2013 کے عام انتخابات دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے کافی مشکل تھے، ان انتخابات میں 70 ہزار 185 پولنگ اسٹیشن پر 75 ہزار جوانوں نے سیکیورٹی فرائض انجام دیے تھے۔

میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا تھا کہ ’2018 کے انتخابات میں الیکشن کمیشن نے مسلح افواج سے کہا ہے کہ وہ صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ان کی مدد کریں، صاف و شفاف انتخابات کا مطلب ہے کہ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں کسی بھی خوف کے بغیر ہوں، جلسے، جلوسوں کے لیے محفوظ ماحول ہو، پولنگ والے دن بھی ایسا ماحول ہو کہ ووٹرز گھر سے بلا خوف و خطر نکل کر ووٹ ڈالیں، اسی طرح الیکشن کمیشن نے جو ضابطہ اخلاق دیا ہے اس پر مکمل طور پر عمل کرنا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ آزادانہ ماحول میں انتخابات کا مطلب یہ ہے کہ انتخابی عمل کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، تعصب اور پسند یا ناپسند سے بالاتر ہو اور سب سے اہم اگر بیلٹ باکس میں 100 ووٹ ڈالے گئے ہیں تو گتنی کے وقت بھی ووٹوں کی تعداد 100 ہی ہو۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر افواج پاکستان کے نمائندے کہیں کوئی بے ضابطگی دیکھتے ہیں تو اس کے بارے میں الیکشن کمیشن کے حکام کو آگاہ کریں گے، افواجِ پاکستان کو انہیں ٹھیک کرنے کا اختیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے لیے الیکشن کمیشن نے افواجِ پاکستان کو آرٹیکل 220 اور 245، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت 6 کام دیے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ان کاموں میں سب سے پہلے امن و امان کو بہتر کرنا، بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران سیکیورٹی کی فراہمی، انتخابی سامان کی ترسیل، ریٹرننگ افسر کے دفتر تک پولنگ اسٹیشن کے تمام مواد کی ترسیل اور اسٹاف کی سیکیورٹی، پولنگ والے دن اسٹیشن کے اندر اور باہر اپنے نمائندے تعینات کرنا اور پولنگ کے عمل کے بعد تمام بیلٹ باکسز کو واپس الیکشن کمیشن تک پہنچانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کے لیے راولپنڈی میں ایک تھری اسٹار جنرل کی سربراہی میں آرمی الیکشن سپورٹ سینٹر قائم کیا ہے۔

بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن نے افواجِ پاکستان کے لیے ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق 2018 کے انتخابات میں تقریباً 10 کروڑ 60 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، اس سلسلے میں ملک بھر میں 85 ہزار 307 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں، جو 48 ہزار 500 عمارتوں میں بنائے گئے ہیں اور ان کی سیکیورٹی کے لیے افواجِ پاکستان کو 3 لاکھ 71 ہزار 388 اہلکار درکار ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ سرحدی صورتحال کے باعث اتنی نفری الیکشن کے لیے تعینات کرنا ممکن نہیں تھا، جس کی وجہ سے سول آرمڈ فورسز، 5 سال قبل ریٹائر ہونے والے فوجی، پاکستان نیوی اور ایئر فورس کے اہلکاروں پر مشتمل دستے بھی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے لیے جو حکم جاری ہوتا ہے وہ سب کے لیے ہوتا ہے اور جو حکم جاری ہوا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہو کر الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے، الیکشن کے عمل میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی۔

پریس بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل جاری ہے، 27 جون سے ملک کے تینوں چھاپہ خانوں پر فوج سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی ہے اور ممکنہ طور پر 21 جولائی تک چھپائی کا عمل مکمل ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابی مواد کی گتنی الیکشن کمیشن کا کام ہے اور فوج اس عمل میں صرف سیکیورٹی کے لیے موجود ہے جبکہ سامان کی ترسیل الیکشن کمیشن کے اسٹاف کی موجودگی کے بغیر نہیں پوگی۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں پولنگ سے 3 دن پہلے سیکیورٹی کے تمام امور مکمل ہو جائیں گے اور ہر پولنگ اسٹیشن پر فوج، رینجرز اور پولیس کے جوان موجود ہوں گے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ اسٹیشن کی 2 درجہ بندی کی گئی ہیں، حساس پولنگ اسٹیشن میں 2 فوجی اہلکار اندر اور 2 باہر ہوں گے جبکہ غیر حساس پولنگ اسٹیشن میں فوجی اہلکار کے ساتھ پولیس اور دیگر ادارے بھی موجود ہوں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملک میں 20 ہزار 831 حساس پولنگ اسٹیشنز ہیں، پولنگ اسٹیشن کے اندر رہنے والے جوانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی غیر متعلقہ فرد کو اسٹیشن کے اندر نہیں آنے دیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری پولنگ اسٹیشن کے باہر نظم و ضبط قائم کرنا ہوگی اور کسی کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ ووٹرز سے زبردستی کرے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ میڈیا سے درخواست ہے کہ جو جوان ڈیوٹی پر ہو اس سے سوالات کرنے سے گریز کیا جائے اور انہیں میڈیا کے ساتھ رابطے میں نہیں لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان اپنے جوانوں کا خیال کرتی ہے اور ان سے محبت کا اظہار یہی ہے کہ ان کی ڈیوٹی کی راہ میں خلل نہ ڈالا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوئی سیاسی جماعت ہے نہ سیاسی وابستگی، ’میں عوام سے کہنا چاہوں گا کہ جتنی تعداد میں آپ ووٹ ڈالنے آئیں گے اتنے ہی صاف اور شفاف انتخابات ہوں گے۔

اس موقع پر مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں کونسا ایسا الیکشن تھا، جس سے پہلے یہ نہ کہا گیا ہو کہ انتخابات دھاندلی زدہ ہیں، کوئی ایسے انتخابات بتائیں، جن سے پہلے کسی سیاسی جماعت کے رہنماؤں نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار نہ کی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ جب دل اور دماغ کی سرجری کر رہے ہوں تو چھوٹے مسائل پر توجہ نہیں دیتے، افواجِ پاکستان نے 15 سال سے قومی فریضہ انجام دیا اور پاکستان کی بقا کی جنگ لڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ سب کچھ برداشت کیا جو عام حالات میں برداشت نہیں کرسکتے، کچھ لوگوں کا مقصد ہے کہ افواجِ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور کرکے عام نوعیت کے مسائل میں گھسیٹا جائے لیکن یہ وقت ایسا ہے کہ پاکستان افواج کی ساری توجہ اہم ملکی معاملات پر مرکوز کی جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص سیاسی جماعت تبدیل کرتا ہے تو یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی کال کرے کہ ایسا کردیں تو ایسا ہوجائے گا۔

پریس بریفنگ کے دوران انتخابات میں انجینئرنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کا یہ سب افواجِ پاکستان پر الزامات ہیں لیکن ہم پھر بھی خاموش ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم نے کہاں جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جمہوریت دشمن عناصر الیکشن سے خوش نہیں لیکن انتخابات اپنی تاریخ پر ہی ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی جونیئر افسر کسی کو بلا کر کہے کہ انتخابات کا انعقاد اس طریقے سے ہوگا، اس طرح کی چھوٹی باتوں کو اس طرح پیش کرنا کہ دھاندلی ہوگی تو ایسا بالکل نہیں ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی تصویر کو انتخابی پوسٹر پر استعمال کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس معاملے پر نوٹس لیا۔

چوہدری نثار اور دیگر رہنماؤں کو جیپ کا نشان الاٹ کرنے پر انہوں نے کہا کہ یہ جیپ ہماری نہیں اور انتخابی نشان الاٹ کرنا افواجِ پاکستان کا کام نہیں، الیکشن کمیشن کا کام ہے، میڈیا ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عوام جسے ووٹ دیتے ہیں اسے اس کے مطابق گنا جائے، ہمارا کام صرف معاونت فراہم کرنا ہوگا، ہم سے زیادہ میڈیا صاف و شفاف انتخابات کو فروغ دے سکتا ہے۔

سائبر حملوں کے معاملے پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ خطرہ سب کو ہوتا ہے لیکن اس سے تحفظ پر کام کیا جارہا ہے اور اس میں بہتری کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے جب وقت آئے گا تو آرمی کے رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو ہم کنٹرول نہیں کرسکتے اور کسی سے ڈنڈے کے زور پر کوئی کام نہیں کروا سکتے لیکن اگر کوئی ایسا کام ہو جو ملک کے خلاف ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیات کو خطرہ ہے اور اس سلسلے میں ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور ان شخصیات کو خود بھی احتیاط کرنی چاہیے۔

پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کس ملک کا پاکستان کے انتخابات میں کتنا مفاد ہے اور ان کے کیا مقاصد ہیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ انتخابات صاف و شفاف ہوں۔

کالعدم تنظیموں کی الیکشن میں شمولیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا کہ کالعدم تنظیم کے افراد کا جائزہ لے، فوج کا انتخابی امیدوار کی اہلیت سے متعلق کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز کی ترسیل کے بعد تک چھاپے خانے پر سیکیورٹی رہے گی اور اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہماری امید ہے کہ ووٹرز گھر سے نکلیں اور بلا خوف و خطر ووٹ ڈالیں، ہماری اولین ترجیح یہی ہے کہ ہم اس عمل میں کامیاب ہوں۔

خلائی مخلوق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاست میں نہیں ہیں اور ہم رب کی مخلوق ہیں، پاکستان کے عوام کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے فرائض انجام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عوام انتخابات میں کسی کو بھی منتخب کریں، ہمارے لیے وہی وزیر اعظم ہوں گے، فوج کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔