اے این پی رہنما کا قتل: پی کے 78 میں انتخابات ملتوی

ای میل

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم کے تحت ہونے والی کارنر میٹنگ کے دوران ہونے والے بم دھماکے کے بعد صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 78 سے انتخابات ملتوی کردیے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق مذکورہ خودکش حملے میں اے این پی کے امیدوار برائے صوبائی اسمبلی ہارون بلور جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے پیشِ نظر انتخابات ملتوی کیے گئے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی کی اس نشست پر الیکشن عام انتخابات کے بعد ہوں گے۔

ادھر نگراں صوبائی کابینہ کا 5 رکنی وفد اے این پی کے رہنما ہارون بلور کی رہائش گاہ پہنچا جہاں انہوں نے غم زدہ خاندان سے اظہارِ تعزیت کیا۔

مزید پڑھیں: ’آئندہ انتخابات شفاف نہیں ہوں گے‘

نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان کی ہدایت پر صوبائی وزرا ظفر اقبال بنگش، انوارالحق، اسد اللہ چمکنی، فضل الٰہی اور محمد رشید خان ہارون بلور کی رہائش گاہ پر گئے اور متاثرہ خاندان کے ساتھ اس واقعے پر دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور اللہ تعالی سے لواحقین کے لیے صبر و استقامت کے لیے دعا بھی کی۔

صوبائی وزرا نے دھماکے کے دیگر شہدا کے لواحقین سے بھی اس افسوس ناک واقعے پر دلی ہمدردی کا اظہار کیا جبکہ اس خودکش حملے کے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔

ریاستی ادارے امیدواروں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگئے،امیر حیدر ہوتی

ادھر مردان میں اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے ہارون بلور کی شہادت کو قومی سانحہ قراردیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ریاستی ادارے امیدواروں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔

مردان پریس کلب کے باہر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بعض قوتیں عوامی نیشنل پارٹی کو انتخابات سے آوٹ کرنا چاہتی ہیں لیکن ہارون بلور کی شہادت نے کارکنوں کو نیا حوصلہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابات میں سیاسی قیادت کو سیکیورٹی خطرات ہیں،نیکٹا

انہوں نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ میدان چھوڑنے والے نہیں، بلکہ انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔

انہوں نے پارٹی کارکنان کو ہدایت جاری کیں کہ کارکن انتخابی مہم جاری رکھیں۔

یاد رہے کہ 10 جولائی کو پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران بم دھماکے سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار اور سابق رہنما بشیر احمد بلور کے صاحبزادے ہارون بلور سمیت 20 افراد جاں بحق اور 48 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اس حوالے سے اے آئی جی شفقت ملک کا کہنا تھا کہ 'ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ خودکش تھا اور اس کا نشانہ ہارون بلور تھے'۔

مزید پڑھیں: پنجاب سے اے این پی کی پہلی اور واحد خاتون امیدوار

بعدِ ازاں ہارون بلور پر ہونے والے خودکش حملے کا مقدمہ ایس ایچ او یکہ توت کی مدعیت میں نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کرلیا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ نیشنل کاؤنٹرٹیرارزم اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے ایک انتباہ جاری کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ عام انتخابات کے دوران ملک کی سیاسی قیادت کو دہشت گردی کے خطرات ہیں۔

نیکٹا حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے 12 رپورٹس ملی ہیں جن میں سے 6 رپورٹس مخصوص شخصیات پر ہیں۔