‎وقت وہیں رُکا ہوا ہے!

15 جولائ 2018

ای میل

‎جو کچھ نواز شریف کے ساتھ ہو رہا ہے اس کی وجہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس نہیں بلکہ بُرا وقت ہے۔ آپ دیکھیے ایک ہی وقت میں بیوی بستر مرگ پر ہے، بیٹی اور داماد گرفتار ہوچکے ہیں، نواسہ اور پوتا لڑ کر پہلی مرتبہ لندن حوالات میں بند ہوئے اور پھر رہا ہوئے اور نواز شریف خود بھی جیل میں قید کاٹ رہے ہیں۔

ان سارے واقعات کا یکے بعد دیگرے وقوع پذیر ہونا دراصل قسمت کا کھیل ہے۔ نواز شریف کے خلاف کیس کی وجہ کرپشن ہوسکتی ہے لیکن بیوی کا بسترِ مرگ پر چلے جانا، بیٹی اور داماد کا گرفتار ہوجانا اور نواسے اور پوتے کا انہی دنوں میں چند گھنٹوں کے لیے حوالات کی ہوا کھانا نواز شریف کی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ برے وقت کا نقطہ عروج ہے۔

یہ وقت یقیناً مشکل ہوتا ہے لیکن اس مشکل وقت میں سے خود کو باہر نکالنے اور مایوسی کے سمندر میں سے بچ کر نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ یہ ہے کہ آپ یقین رکھیں کہ یہ وقت عارضی ہے، یہ گزر جائے گا اور پھر نیا وقت آئے گا اور وہ وقت آج کے دن جیسا تکلیف دہ نہیں ہوگا۔ اس وقت میں خوشیاں ہوں گی، سکون ہوگا اور اطمینان ہوگا لیکن ان تمام سچائیوں کے ساتھ یہ بھی ایک سچ ہے کہ برا وقت انسان کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے کہ آخر اس سے کیا غلطی ہوئی ہے؟

انسان کو خود کے احتساب کا موقع ملتا ہے، انسان اپنی کمزوریوں اور طاقت کا بخوبی اندازہ کرسکتا ہے۔ برا وقت آنا اٹل ہے اور زندگی کا عمل برے وقت کے آئے بغیر مکمل ہو ہی نہیں سکتا لیکن برے وقت میں جو سزا آپ کو ملتی ہے اس کی شدت کا تعلق آپ کے ماضی کے اعمال سے ہے۔ آپ کی کی گئی زیادتیوں سے ہے اور آپ کے کیے گئے اچھے کرموں سے ہے۔

پڑھیے: نواز شریف کے لیے کوئی بھی فیصلہ آسان نہیں

بعض لوگ برے سے برے وقت میں سے بھی صرف ایک چھوٹے سے نقصان کے ساتھ گزر جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو برے وقت کی بہت مہنگی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ آپ کے بول، آپ کا تکبر، آپ کا رویہ، آپ کی ناانصافی، آپ کا ظلم برے وقت میں آپ کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں اور لمحے کے ہزارویں حصے میں آپ کو وہاں لے جاتے ہیں جہاں آپ انہیں ماضی میں چھوڑ آئے تھے۔

‎آپ اس وقت محسوس کرتے ہیں کہ وقت وہیں رکا ہوا ہے جہاں آپ نے کوئی زیادتی یا ظلم کیا تھا۔ وقت وہیں کھڑا آپ کو گھور رہا ہے جہاں آپ کی گردن میں سریا آ گیا تھا۔ وقت انصاف کی دہلیز پر اسی طرح کھڑا ہے جہاں آپ مظلوم کے ساتھ ناانصافی کرکے آگے بڑھ آئے تھے۔

وقت وہیں کھڑا دہائیاں دے رہا ہے جہاں آپ نے بھوکے کے منہ سے نوالا چھین لیا تھا۔ وقت وہیں کھڑا آپ کو کوس رہا ہے جہاں آپ نے یتیم کے سر سے چھت اور بیوہ سے اس کا آخری سہارا چھین لیا تھا۔

وقت وہیں کھڑا ماتم کر رہا ہے جہاں آپ نے عوام کے خون پسینے کی کمائی کو اپنا حق سمجھ لیا تھا۔ وقت وہیں کھڑا اپنا حق مانگ رہا ہے جہاں آپ نے عوام کے منہ سے نوالا نکال کر اپنے بچوں کے نام اربوں روپوں کی جائیدادیں بنا لی تھیں۔

وقت وہیں کھڑا خدا کی لاٹھی کا منتظر ہے جو حاکم اور محکوم میں فرق نہیں کرتی۔ وقت وہیں کھڑا بچے کی طرح بلک رہا ہے جہاں محکوم کے بچے سی کلاس دوائیاں تک خریدنے کی سکت نہیں رکھتے تھے اور حاکم کے بچے امریکا اور برطانیہ کے فائیو سٹار ہسپتالوں میں اے کلاس دوائیاں استعمال کر تے تھے۔

وقت آج بھی وہیں کھڑا ان جھوٹے الزامات اور سازشوں کو سوالیہ نشان بنا دیکھ رہا ہے جہاں بے نظیر کے کردار اور حرمت کی دھجیاں اڑا دی گئی تھیں۔ وقت آج بھی وہیں کھڑا اپنا قصور تلاش کرتا پھر رہا ہے جہاں بیگم نصرت بھٹو بسترِ مرگ پر پڑی تھیں اور نواز شریف اسے ڈرامہ قرار دے رہے تھے۔

پڑھیے: انتخابی ساون اور امیدوار پتنگے

وقت آج بھی وہیں کھڑا اپنا منہ چھپاتا پھر رہا ہے جہاں نواز شریف نے بے نظیر کی ایڈٹ کی ہوئی تصویروں کو جہاز کے ذریعے پورے شہر میں بانٹا تھا اور بے نظیر ہر کسی سے یہ پوچھتی تھیں کہ میرا کیا قصور ہے؟

وقت آج بھی وہیں کھڑا تماشا دیکھ رہا ہے جہاں نواز شریف یوسف رضا گیلانی کے خلاف کالا کوٹ پہن کر عدالت جا پہنچے تھے اور ان کی نااہلی کے لیے سر اور دھڑ کی بازی لگا دی تھی۔ وقت وہیں کھڑا زیرِ لب مسکرا رہا ہے جہاں نواز شریف یوسف رضا گیلانی کی نااہلی پر مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔

‎وقت وہیں کھڑا انتقام کی آگ میں جل کر راکھ ہورہا ہے جہاں ماڈل ٹاؤن کی نہتے معصوم ماؤں اور ان کے پیٹ میں پلنے والے بچوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا تھا۔

‎وقت آج بھی وہیں کھڑا اپنے ان 35 سالوں کا حساب مانگ رہا ہے جو اس نے آپ کو اقتدار کی صورت میں دیے اور آپ ان 35 سالوں میں لکھ پتی سے کھرب پتی بن گئے اور ملک پاکستان ان 35 سالوں میں دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشیتوں سے گر کر تھرڈ ورلڈ ممالک کی فہرست میں سرفہرست آ گیا۔

میاں صاحب میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ ماضی کی ان واقعات کو سامنے رکھ کر اپنی غلطیاں تلاش کریں اور حساب لگائیں کہ کس غلطی کی کتنی سزا ملی ہے۔ یقیناً ان میں سے بہت سی غلطیوں کا ازالہ نہیں کیا جاسکے گا لیکن کچھ غلطیاں ایسی بھی ہوں گی جن کا ازالہ ممکن ہے۔

‎میاں صاحب آپ صدقِ دل سے اپنا احتساب کریں اور ‎جن غلطیوں کا ازالہ ممکن ہے ان کے ازالے کی کوشش کریں۔ ممکن ہے کہ آپ کی سزا کم ہوجائے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کی 11 سال کی سزا 40 سال میں بدل جائے گی اور احتساب عدالت میں چلنے والے باقی کیس آپ کو پھانسی کے پھندے تک لے جائیں گے۔