بینکوں کو تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 18 جولائ 2018

ای میل

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ملک میں موجود تمام شیڈول بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سال 2009 سے سال 2013 تک غیر ملکی ذرائع سے ہونے والی فنڈنگ کی تفصیلات براہ راست الیکشن کمیشن کو فراہم کریں۔

اس حوالے سے تمام بینکوں کے صدر اور چیف ایگزیکٹو افسران کو تفصیلی ہدایات جاری کردی گئیں، جس میں تحریک انصاف کے تمام بینک اکاؤنٹس، بیرونِ ملک سے رقم کی منتقلی، ملک میں اور بیرونِ ملک موجود پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی ماہانہ بینک اسٹیٹمنٹس فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا غیر ملکی فنڈنگ کیس کی اسکروٹنی خفیہ رکھنے کا مطالبہ

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے یہ ہدایات الیکشن کمیشن کی جانب سے 3 جولائی کو جاری کردہ احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے دیں، جو پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کے آڈٹ کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی کے سربراہ اور ای سی پی کے ڈائریکٹر جنرل برائے قانون نے جاری کیے تھے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے رواں سال اپریل میں اسکروٹنی کمیٹی قائم کی تھی جسے پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات ایک ماہ میں مکمل کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: اثاثوں اور غیر ملکی فنڈنگ: پی ٹی آئی سے دو ہفتے میں جواب طلب

تاہم اس حوالے سے کمیٹی کو دیے گئے اختیارات کی مدت میں مزید 2 ماہ کی توسیع کردی گئی تھی کیونکہ کمیٹی کی جانب سے تحریک انصاف کے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک اکاؤنٹس کی تفصیلات، ان کی بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے کے مطالبے کو پی ٹی آئی مسلسل نظر انداز کررہی تھی۔

اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک رکنی بینچ تحریک انصاف کی جمع کرائی گئی تحریری درخواست کی سماعت بھی کرے گا جس میں الیکشن کمیشن کے مطالبے کو اختیارات سے تجاوز اور کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس میں ایک نیا موڑ

یاد رہے کہ نومبر 2014 میں الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات شروع کرنے کے بعد اسے روکنے کے لیے تحریک انصاف کی یہ چوتھی درخواست ہے۔

اس ضمن میں ہونے والی گزشتہ سماعت میں تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ درخواست گزار اور پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں شامل اکبر ایس بابر کا نام مقدمے سے خارج کیا جائے کیوں کہ اب وہ مبینہ طور پر پارٹی کا حصہ نہیں جبکہ ای سی پی کے 8 مئی 2017 کو دیے جانے والے فیصلے میں انہیں پارٹی کا حصہ سمجھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر آمادہ

اس حوالے سے جب مدعی اور تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر اکبر بابر سے گفتگو کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو 16 جولائی تک تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن ہمیں باضابطہ طور پر اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب انہوں نے اسٹیٹ بینک کی اس کاوش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور اس کے چیئرمین عمران خان گزشتہ 4 سالوں سے انصاف اور احتساب سے بچ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کی نئی کمیٹی بنانے کی ہدایت

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے کوئی شبہ نہیں اگر ایک مرتبہ تحریک انصاف کو حاصل غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کردی گئیں تو لوگ فنڈنگ کی رقم اور اس میں ہونے والی دھوکہ دہی دیکھ کر حیران ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور اسٹیٹ بینک کے حالیہ احکامات عمران خان کے ان عوامی بیانات کی تردید کرتے ہیں جس میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی جماعت ای سی پی کو منی ٹریل اور رقوم کی منتقلی کی تفصیلات جمع کروا چکے ہیں۔


یہ خبر 18 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی