پاکستان رینجرز سندھ نے کراچی کے علاقے اورنگی میں پولیس کے ساتھ ایک مشترکہ کارروائی میں انتخابی امیدواروں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے دو مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

رینجرز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق رینجرز نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر اورنگی ٹاؤن میں پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی اور مبینہ طور پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے جنوبی افریقہ نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے دومطلوب ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق گرفتار مبینہ ملزمان محمد بلال لودھی اور محمد ارشاد نے انتخابات 2018 کے دوران اپنی قیادت کے حکم پر مخالف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔

رینجرز کے مطابق ملزمان کا مقصد انتخابات کے دوران کراچی کے حالات کو خراب کرنا تھا جس کے لیے گزشہ ماہ اسی نیٹ ورک کی جانب سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کی ٹیمیں مخالف سیاسی امیدواروں اور ایم کیو ایم (لندن) کو چھوڑنے والے مختلف سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کے لیے تشکیل دی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:'کراچی آپریشن غیر سیاسی، بلاامتیاز ہے'

رینجز کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران تمام الزامات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مصوبوں کی تکمیل کے لیے لندن سیکریٹریٹ سے مالی وسائل بھی فراہم کیے گئےتھے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان کو ابتدائی طور پر کراچی کے حلقہ پی ایس-128 سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محسن جاوید، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے امیدوار عارف حسین قریشی اور پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) گلبہار کے ذمہ داران معین اور اظہر عرف میاں سیاں کو قتل کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔

گرفتار ملزمان نے قیادت کے احکامات کے مطابق مذکورہ امیدواروں کو قتل کرنے کے لیے ریکی کی جبکہ قتل کرنے کے لیے اسلحہ بھی فراہم کردیا گیا تھا جو ان کے قبضے سے برآمد ہوا ہے۔

مزید پڑھیں:'کراچی آپریشن پر حکومت کو کسی دباؤ کی پرواہ نہیں'

رینجرز کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رینجز نے کراچی میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن کا آغاز ستمبر 2013 میں کیا تھا جس میں بعد ازاں تیزی آئی تھی اور اسی دوران ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر بھی چھاپہ مارا گیا تھا۔

کراچی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف کراچی پریس کلب میں اگست 2016 میں دیے گئے دھرنے کے دوران الطاف حسین کی ملک مخالف تقریر کے بعد ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے لندن سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایم کیو ایم کو پاکستان سے ہی چلانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایم کیو ایم دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔