نئی نویلی حکومت کا ایجنڈا

26 جولائ 2018

ای میل

تادمِ تحریر یہ جاننا ناممکن ہے کہ انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے، البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ انتخابات کے بارے میں سخت مقابلے کی جو پیش گوئی کی جارہی تھی وہ درست ثابت ہوتی دکھائی دی۔ جوشیلی تقاریر اور انتہائی منقسم خیالات کے باجود فیصلہ کن نتیجہ برآمد ہونا ناممکن سا دکھائی دے رہا ہے۔ اس لیے انتخابات کے بعد صرف ایک ہی موضوع پر بات کی جاسکتی ہے وہ ہے آگے کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔

انتخابی نتائج آنے کے بعد جس کسی کو بھی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی جائے گی اس کے لیے سب سے پہلا کام اعتماد کے ووٹ اکٹھا کرنا ہوں گے۔ ابتدائی نمبروں کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاملہ سیدھا سادہ نہیں ہوگا۔ 2008ء میں پیپلزپارٹی کو ووٹوں کی گنتی مکمل کرنے کے لیے اتحاد کرنا پڑا تھا، مگر ان دنوں میں یہ کام آسان تھا کیونکہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں مشرف اور (ق) لیگ کے خلاف صف آراء تھیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اتحاد سے سربراہِ ایوان کے لیے مطلوبہ ووٹ بڑی آسانی سے حاصل ہوگئے۔

2013ء میں بھی ایسا ہی ہوا۔ مطلوبہ ووٹ آسانی سے حاصل کرلیے گئے کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے پاس 126 نشستیں تھیں لہٰذا اسے حکومت تشکیل دینے کے لیے کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں پڑی۔ اس طرح ان کا یہ کام تو آسان ہوگیا تاہم انہیں آنے والے برسوں میں ان کے اپنے پیدا کردہ مسائل ہی ان کے منتظر تھے۔ پیپلزپارٹی اپنے پورے دورِ اقتدار میں اتحادی جماعتوں کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا شکار رہی اور اپنے بعد آنے والی حکومت کے مقابلے میں غیر مستحکم حالت میں حکمرانی کی۔

اگلی حکومت کو نہایت متفرق اور منقسم ماحول میں اپنے ووٹوں کی گنتی مکمل کرنے کا چیلینج لاحق ہوگا۔

اس ماحول میں مخلوط حکومت سنبھالنا مشکل ہوگا، جبکہ 18ویں ترمیم کے بعد فارورڈ بلاک کے آپشن کا امکان بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اسی لیے آزاد امیدواروں کے جھنڈ کو سنبھالنا اور جن افراد کے بارے میں تحقیر آمیز الفاظ بھی ادا کیے ہوں ان کے پاس جا پہنچنا ضروری ہوگا۔ اس کام کے لیے سنجیدہ سیاست مطلوب ہوگی، جس کے لیے پھر سنجیدہ بلوغت کا مظاہرہ کرنا ضروری ہوگا۔ یہ ہے درحقیقت چیلینج نمبر ایک۔

پڑھیے: نئی حکومت کے لیے منتظر کانٹوں کا تاج

نئی انتظامیہ کے آنے کے ساتھ ہی معیشت تیزی کے ساتھ بیٹھنا شروع ہوجائے گی۔ ایک بار پھر ذہن میں یہ بات رکھنا ضروری ہے کہ معیشت کی صورتحال 2008ء اور 2013ء کے وقت جتنی خراب تھی آج معیشت کی حالت اس کے ذرا برابر بھی قریب نہیں ہے۔ آج مالی نظام مکمل تباہی کے کنارے پر نہیں، اسٹاک مارکیٹ منجمد نہیں، بینکوں سے رقوم کی منتقلیاں زوروں شوروں سے جاری اس نہج پر نہیں کہ جب اسٹیٹ بینک کو نظام میں بڑی سطح پر اپنے ذخائز کے تناسب کو ایڈجسٹ کرنا پڑا تاکہ نظام میں Liquidity شامل کی جاسکے۔

پھر 2013ء کے برعکس ہم گردشی قرضوں کو مفلوج سطحوں کی وجہ سے پاور سپلائے چین کے بڑے حصے کو بند ہوتے نہیں دیکھ رہے، نہ ہی 20، 20 گھنٹے بجلی جاتی ہے اور نہ ہی ذخائر میں کمی ہونے جا رہی ہے۔ بلاشبہ زرِ مبادلہ کے ذخائر پر پریشر ہے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے رقوم کے اخراج کو روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں، ان اقدامات کے بھی روز مرہ کے کاروبار پر اثرات مرتب ہوں گے لیکن بحران کے نمایاں آثار کہیں نظر نہیں آ رہے، اور روزمرہ کی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی نظر نہیں آتی، اور اگلے چند ماہ کے دوران ذخائر خطرناک سطح پر بھی نہیں پہنچنے والے۔

مطلب یہ ہوا کہ اس بار صورتحال گزشتہ ان دونوں مواقع سے مختلف ہے کہ جب نئی نویلی حکومت کو بدتر اقتصادی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بحران میں ابھی چند ماہ باقی ہیں، اس طرح حکومت کے پاس اس سے نمٹنے کی تیاری کے لیے وقت ہے۔ تاہم اس حوالے سے پارلیمانی حساب کتاب ممکنہ طور پر ایک انتہائی پیچیدہ عنصر ہوسکتا ہے۔ کیا نئی حکومت مشکل وقت میں داخل ہونے سے قبل اس قلیل وقت میں اپنے پیر مضبوط اور اپنے پیچھے اتحادیوں کو کھڑا کرسکے گی؟

چند بڑے مسئلے اگلی حکومت کے منتظر ہیں لیکن ضروری بات یہ ہے کہ ان مسائل کو ‘بحران‘ کے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا۔

آئندہ چند ماہ تو ایسی صورتحال پیدا ہوسکتی مگر فی الوقت ایسی کوئی بات نہیں۔ جو مسائل ہیں وہ بھی منظر عام پر ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں ماہانہ ایک اعشاریہ 2 ارب کی شرح کے ساتھ کمی واقع ہو رہی ہے اور اتنے ذخائر بمشکل 2 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہے۔ اس کے بعد باری ہے مالی صورتحال کی، جس کو سنبھالنے کے لیے مِنی بجٹ کی ضرورت ہوگی۔

پڑھیے: عمران خان کے نئے پاکستان کیلئے نئے وعدے

اس کے بعد ہے گردشی قرضہ، جس کے لیے بجلی پیدا کرنے والوں کے ساتھ معاملات طے کرنا ہوں گے۔ توانائی پیدا کرنے والوں کو شاید یہ ڈر ہو کہ نئی حکومت توانائی کی خریداری کے حوالے سے دوبارہ بات چیت کرے گی۔ یہی صورتحال ایل این جی ٹرمنل آپریٹرز کے ساتھ بھی ہے، حکومت ان کے ساتھ کس طرح معاملات طے کرے گی یہ سوچ کر ممکنہ طور پر وہ مختلف منظرنامے مرتب دینے میں مصروف ہوں۔

مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں طے ہونے والے کئی معاہدوں کی شرائط پر نئی حکومت کی جانب سے ختم کرنے یا پھر ان پر دوبارہ بات چیت کرنے کی کوشش شاید معیشت پر لٹکتی کلہاڑی سے کم نہیں ہے۔

آئی ایم ایف کو دکھانے کے لیے حکومت کو زرِ مبادلہ کے ذخائر پیدا کرنے کے حوالے سے ایک ایکشن پلان مرتب کرنا ہوگا، بے قابو مالی خسارے کو روکنے کے لیے فوری ذخائر کے انتظامات کرنے ہوں گے، بجلی پیدا کرنے والوں کی بے تحاشا ادائیگیوں کا انتظام کرنا ہوگا (پھر چاہے ان کے بازوؤں کو پکڑنا پڑے یا واجب الادا رقم کم کرنے کے لیے ادھار لینا پڑے، ٹربائنز کو چلتے ہی رکھنا ہے)۔

اسے ہم کرائسز مینجمنٹ تو نہیں کہیں گے مگر ایسے اقدامات کہہ سکتے ہیں جو ممکنہ بحران کی فیصلہ کن سمت کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ اگر حکومت نے خود کو انتخابی مہم موڈ سے نہیں نکالا یا انتقامی سیاست میں پھنسی رہی اور اپنے کل کے مخالفین کے پیچھے لگنے کا فیصلہ کیا اور اپنے اتحادیوں کے انتخاب اور بے مزہ اتحاد کرنے کی صورت میں سیاسی مصلحت کی وضاحتین دینے میں مصروف ہوجاتی ہے، یا پھر معیشت کو سنبھالنے میں تاخیر کرتی ہے تو اس طرح وہ بحران سے خود کو بچانے کا موقع کھو دے گی اور یوں موجودہ بحران شدید ترین صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔

لہٰذا سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئی حکومت کس قدر تیزی سے اقدامات کرتی ہے، جبکہ پارلیمانی حساب کتاب فوری اور مناسب اقدامات کو مشکل بنا سکتا ہے۔ اگر ووٹ کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں اور دھاندلی کے الزمات کا ڈھیر میڈیا اور عدالتوں کے سامنے لگایا جاتا ہے تو کنفیوژن میں اضافہ ہوگا۔ انتخابات کے موقع پر کیا ہوا یہ قصے آنے والے دنوں میں سننے کو ملیں گی۔ نئی حکومت جو بھی اپنے دلائل دے گی ان کی اہمیت کا دار و مدار حکومت کے ابتدائی فیصلوں پر ہوگا۔ اگر سب کچھ اچھا رہا تو ابھی بھی بحران کا رخ موڑا جاسکتا ہے۔

یہ مضمون 26 جولائی 2018ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔