مسلم لیگ(ن)، پی ٹی آئی، پی پی پی کی جانب سے دھاندلی زدہ قرار دیے گئے حلقے

27 جولائ 2018

ای میل

پاکستان میں 2018 کے عام انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) اور اکثریت حاصل کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹ آئی) کی جانب سے مختلف حلقوں میں دھاندلی کے الزامات عائد کردیے ہیں۔

پی ٹی آئی نے صوبہ خیبر پختونخوا(کے پی) اور مرکز میں اکثریت حاصل کی جہاں ان کی حکومت بنے گی جبکہ پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) سے مقابلہ ہے اس کے باوجود پولنگ میں دھاندلی کی شکایات درج کرا دی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کئی حلقوں میں دوبارہ گنتی کے لیے درخواستیں دی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے-249 میں ووٹوں کی گنتی پر اعتراض اٹھایا ہے جہاں شہباز شریف نے الیکشن لڑا تھا۔

مسلم لیگ (ن) نے پی ٹی آئی کے امیدوار فیصل واوڈا کو مبینہ طور پر ووٹ منتقل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا اسی حلقے سے کامیاب قرار پائے ہیں۔

لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-131 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سعد رفیق کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کو قبول کرلیا گیا ہے۔

این اے-131 سے سعد رفیق کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی

پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ پارٹی کو سیالکوٹ کے حلقہ این اے-73 میں خواجہ آصف کی کامیابی پر تحفظات ہیں۔

پی ٹی آئی کے ہمدودوں کی جانب سے ٹویٹر میں اپنے پیغامات میں مبینہ طور پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔

سیالکوٹ کے حلقے این اے-73 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے علیم خان کی جانب سے لاہور میں این اے-129 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی گئی ہے جس کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

این اے -129 لاہور میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

پی پی پی

پی پی پی کی جانب سے بھی ملک بھر کے چند حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔

پی پی پی نے اعتراض اٹھایا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقے این اے-144 جھنگ میں ان کی پارٹی کے امیدوار کی کامیابی کو پی ٹی آئی کے پلڑے ڈال دیا گیا ہے جہاں کانٹے کا مقابلہ تھا۔

ایم ایم اے

ایم ایم اے نے این اے-5 میں دوبارہ گنتی کے بعد کامیابی حاصل کی جہاں ابتدائی طور پر پی ٹی آئی کے امیدوار کو 8 ہزار کے فرق سے کامیاب قرار دیاگیا تھا۔