یورپی یونین مشن کی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع نہ ملنے پر تنقید

اپ ڈیٹ 28 جولائ 2018

ای میل

—فوٹو:اے پی
—فوٹو:اے پی

پاکستان میں منعقدہ عام انتخابات کے لیے آیا ہوا یورپی یونین مبصر مشن نے ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے قوانین موجود ہونے کے باوجود انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم نہ کیے جانے کی نشان دہی کرلی۔

اسلام آباد میں یورپی یونین مبصر مشن کے سربراہ مائیکل گہلر نے پریس کانفرنس کے دوران ابتدائی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم سمجھتے تھے کہ نئے انتخابی بل میں مثبت قانونی تبدیلیوں، مضبوط اور ایک غیر جانب دار الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے سیاسی ماحول نے 2018 کے انتخابی عمل پر منفی اثرات مرتب کیے’۔

مائیکل گہلر نے کہا کہ ‘سیاسی اور مالی مراعات یافتہ امیدوار، نام نہاد الیکٹیبلز مہم میں چھائے رہے، مہم پر اخراجات کے غیرمتوازن ضابطوں نے امیدواروں کو یکساں مواقع کے لیے مزید محدود کردیا’۔

یورپی یونین مبصر مشن نے عام طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے کردار کو سراہا۔

مشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 120 سے زائد یورپی یونین کے مبصرین نے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا (کے پی) اور اسلام اباد کے مختلف 113 حلقوں میں مجموعی طور پر 582 پولنگ اسٹیشنوں کے دورے کیے۔

ابتدائی طور پر یورپی یونین مشن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘بلوچستان کے پولنگ اسٹیشنز میں دو حملوں اور سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے درمیان تصادم کے باوجود ووٹنگ شرح 52 فیصد رہی’۔

سیکیورٹی فورسز کے کردار پر بات کرتے ہوئے مبصر مشن نے کہا کہ ‘ انتخابی مہم کے دوران بڑی تعداد میں حملوں، سیاسی جماعتوں کے خلاف دہشت گردی کے واقعات نے سیاسی رہنماؤں، امیدواروں اور انتخابی عملے کو متاثر کیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اورباہر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی ہوئی تھی جہاں وہ ووٹرز کے شناختی کارڈ دیکھتے اور انہیں قطار میں کھڑے رہنے کی ہدایت کررہے تھے۔

مشن کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے انتخابی نتائج کو ریکارڈ کیا اور مرتب کیا جس سے یہ تاثر ملا کہ ایک متبادل نقشہ ہے۔

انتخابی عمل میں مداخلت

یورپی یونین مبصر مشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابات 'فوج کی سربراہی میں اسٹیبلشمنٹ اورعدلیہ کے بطور سیاسی کردار کی' مداخلت اور اثر انداز ہونے کے الزامات کے پس منظر میں ہوئے۔

مشن نے کہا کہ 'پاکستانی میڈیا چینلز اور صحافی آزادی اظہار رائے پر پابندی کے نتیجے میں غیر معمولی خود ساختہ سینسر شپ کا شکار ہوئے'۔

یورپی یونین مشن نے یہ بھی تجزیہ کیا کہ 'انتخابی حوالے سے مخصوص ٹائمنگ، عدلیہ کے فیصلوں کی تحقیقات کی نوعیت یا پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے معاملات پر فیصلوں کو کئی اسٹیک ہولڈرز نے عدلیہ کی سیاست میں مداخلت سے تعبیر کیا'۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ 'انتخابات کے پیش نظر مقدمات نے سیاسی ماحول کو نئی شکل دی' اور اس ابتدائی رپورٹ میں مقامی مبصرین اور صحافیوں کے حوالے سے انتخابی عمل پر تحفظات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

یورپی یونین مبصر مشن کے مطابق 'اکثریت نے سابق حکمراں جماعت کو ان کی قیادت اور امیدواروں کے خلاف کرپشن کے مقدمات، توہین عدالت اور دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے کمزور کرنے کے لیے منظم کوششوں کا اعتراف کیا'۔