برطانوی اداکار پر ‘ریپ’ کے الزامات ثابت نہ ہوسکے

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2018

ای میل

ای ویسٹ وک کے خلاف ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہی—فائل فوٹو: اے پی
ای ویسٹ وک کے خلاف ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہی—فائل فوٹو: اے پی

امریکی پراسیکیوٹرز نے کہا ہے کہ معروف ٹین ایجرامریکی ڈرامے ‘گوسپ گرل’ سے شہرت حاصل کرنے والے برطانوی اداکارای ڈی ویسٹ وک پر ‘ریپ’ اور خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔

31 سالہ ای ڈی ویسٹ وک پر الزام تھا کہ انہوں نے 2014 میں تین مختلف واقعات کے دوران 3 خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے سمیت ان کا ‘ریپ’ کیا۔

ای ڈی ویسٹ وک کے خلاف یہ الزامات گزشتہ برس اس وقت سامنے آئے جب نوجوان اداکارہ و لکھاری کرسٹینا کوہن نے اپنی فیس بک پوسٹ کے ذریعے اداکار پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ریپ کے الزامات عائد کیے۔

کرسٹینا کوہن کے بعد دیگر 2 اداکاراؤں نے بھی ای ڈٰ وسٹ وک کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ریپ کے الزامات عائد کیے، جس کے بعد لاس اینجلس پولیس نے اداکار کے خلاف تحقیقات شروع کی تھی۔

ایک سال تک چلنے والی تحقیقات میں الزامات لگانے والی خواتین کی جانب سے مستند ثبوت پیش نہ کر پانے اور تفتیش کاروں سے مکمل تعاون نہ کرنے کی بناء پر ان کے خلاف کیس کی پیروی کرنے والے لاس اینجلس کے سرکاری وکلاء نے اداکار کو الزامات سے بری قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہاروی وائنسٹن پر جنسی جرائم کی مزید فرد جرم عائد

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے نشریاتی ادارے ‘ٹی ایم زیڈ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ لاس اینجلس ڈسٹرکٹ کاؤنٹی عدالت کے پراسیکیوٹرز کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق ادکار پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ریپ کے الزامات عائد نہیں کیے جاسکتے۔

اداکار پر ریپ کا الزام لگانے والی کرسٹینا کوہن—فوٹو: فیس بک
اداکار پر ریپ کا الزام لگانے والی کرسٹینا کوہن—فوٹو: فیس بک

دستاویزات کے مطابق تفتیش کاروں نے اداکار پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کی، تاہم انہیں اداکار کے خلاف کوئی واضح ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی اس بات کا پتہ چل سکا کہ اداکار نے خواتین کا ریپ کیا ہو۔

دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاں تفتیش کاروں کو 2 خواتین کے ساتھ اداکار کی جانب سے ریپ کے ثبوت نہیں ملے، وہیں تیسری خاتون نے تفتیش کاروں سے تعاون ہی ںہیں کیا اور بار بار رابطہ کیے جانے کے باوجود کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں: ہولی وڈ: جنسی ہراساں کرنے کا ایک اور بڑا اسکینڈل

دستاویزات میں وضاحت کی گئی ہے کہ عدم ثبوتوں اور الزامات لگانے والی خواتین کی جانب سے عدم تعاون کی بناء پر اداکار پر ریپ اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد نہیں کیے جاسکتے۔

ایریلی وان نے بھی اداکار پر ریپ کا الزام لگایا تھا—فوٹو: ڈیلی میل
ایریلی وان نے بھی اداکار پر ریپ کا الزام لگایا تھا—فوٹو: ڈیلی میل

خیال رہے کہ 31 سالہ ای ڈی ویسٹ وک نے 2006 میں اداکاری کی شروعات کی، انہوں نے امریکی ڈرامے ‘گوسپ گرل‘ سے مقبولیت حاصل کی، یہ ڈرامہ کم عمر اور نوجوانوں میں بہت مقبول رہا۔

گوسپ گرل 2007 سے 2012 تک نشر ہوتا رہا، ای ڈی ویسٹ وک نے اب تک ایک درجن سے زائد فلموں اور متعدد ڈراموں میں کام کیا ہے، وہ گلوکاری بھی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‘ریپ’ کی شکار144 خواتین کیلئے ایوارڈ

ای ڈی ویسٹ وک پر 28 سالہ اداکارہ کرسٹینا کوہن اور اداکارہ ایریلی وان نے ریپ جب کہ کریئیٹو پروڈیوسر ریچل ایک نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

علاوہ ازیں یہ بھی اطلاعات تھیں کہ ای ڈی ویسٹ وک پر اسٹائلسٹ اور ماڈل ہیلی کمیل فریڈم نے بھی جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم اداکار پر تفتیش میں کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔

ہیلی کمیل فریڈم نے اداکار پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا—فوٹو: ڈیلی میل
ہیلی کمیل فریڈم نے اداکار پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا—فوٹو: ڈیلی میل