چین کے ساتھ اچھے تعلقات عمران خان کا سب سے بڑا امتحان؟

ای میل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرِ قیادت نئی اتحادی حکومت خارجہ پالیسی کے امور میں ناتجربہ کار نہیں ہوگی، کیوں کہ اس کے چند کامیاب امیدوار پاکستان کے خارجہ تعلقات سنبھالنے کا وسیع تجربہ اور قابلیت رکھتے ہیں۔

مگر جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ کہ نئی حکومت کس حد تک ملک کے خارجہ امور کو ترجیح دینے کے لیے تیار ہوگی۔ کسی بھی صورت میں اسے چین کے لیے ایک واضح حکمتِ عملی تیار کرنی ہوگی۔

خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک امور روایتی طور پر سویلین حکومتوں اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مشکل معاملات رہے ہیں اور ہمیشہ ان دونوں کے درمیان تناؤ کی وجہ بھی۔

سویلین حکومتیں اگر خارجہ اسٹریٹجک امور پر اپنا زیادہ تر کنٹرول سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو دے دیں، تب بھی وہ بین الاقوامی سفارتی تناؤ سے چھٹکارا نہیں حاصل کر پاتیں، جو کہ بنیادی طور پر مختلف علاقائی ممالک پر پاکستان کے پیچیدہ مؤقف اور اس کی سرزمین پر مبینہ طور پر پُرتشدد عسکریت پسند عناصر کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اس بدلتی ہوئی دنیا میں جو چیز معاملات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے وہ یہ کہ معیشت، خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی معاملات کو الگ الگ نظر سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ مسلسل ایک دوسرے کے دائرہ کار میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔

پڑھیے: نئی حکومت کے لیے منتظر کانٹوں کا تاج

2008ء سے 2013ء کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت اور حال ہی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو خارجہ پالیسی امور پر سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے سخت محنت کرنی پڑی۔ مگر اس کے باوجود یہ شعبہ نہایت پریشان کن رہا اور اس نے ملک کے سول ملٹری توازن کو متاثر کیے رکھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) خود کو مختلف صورتحال میں نہیں پائے گی۔

شروع میں تو پارٹی کو شاید یہ مشکل نہ لگے کیوں کہ ایک تاثر ہے کہ اس نے گزشتہ 5 سالوں میں اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد جیت لیا ہے۔ عمران خان کے خارجہ امور پر مشیران کو بھی اسٹیبلشمنٹ کی لائن سے ہم آہنگ سمجھا جاتا ہے۔ مگر خان کا پہلا چیلنج اس سال کے اواخر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوگا جو کہ غیر ریاستی عناصر کے مسئلے کو عالمی توجہ میں لا کر پاکستان کو مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے سے روک سکتا ہے۔ اپنی عمومی بیان بازی سے وہ چیزوں کو صرف کچھ ہی عرصے کے لیے سنبھال پائیں گے مگر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی 19ء-2018ء کی میٹنگز ان کو الجھن میں ڈال دیں گی۔

اسٹریٹجک طور پر دیکھیں تو ملک کی سیاسی حکومتوں کا پاکستان کے امریکا اور کچھ حد تک افغانستان اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں محدود کردار ہی رہا ہے۔ مگر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور پاکستان کی سماجی و معاشی تبدیلیوں میں چین کے کردار کی وجہ سے چین کا معاملہ مختلف ہوگا۔

پی ٹی آئی اور عمران خان کا چین میں کوئی اچھا تاثر نہیں رہا ہے اور اس کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ اس کا 2014ء میں دارالحکومت میں طویل دھرنا ہے جس کی وجہ سے مبینہ طور پر چینی وفد کا دورہ ملتوی ہوا اور دوسری وجہ سی پیک سے متعلق تحریک انصاف کے تحفظات ہیں جنہوں نے چین میں کئی لوگوں کو تنگ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت اتحادی حکومت کے سی پیک منصوبوں کی جانب سے ابتدائی ردِ عمل نے بیجنگ میں شکوک و شبہات پیدا کیے۔ دوسری جانب چین میں کئی حلقے امریکا اور یورپ میں موجود پاکستانی برادری میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک مقیم ہنرمند پاکستانیوں کو اپنی حکومت میں کنسلٹنٹ کے طور پر بھرتی کرے گی۔ بیجنگ کے تدریسی حلقے اسے پی ٹی آئی کی قیادت پر مغرب کے اثر و رسوخ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

جہاں اسلام آباد میں چینی سفارت خانے نے بیان جاری کیا ہے کہ وہ مستقبل کی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں، وہیں پی ٹی آئی چین کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے الجھن کا شکار نظر آئی ہے۔ پارٹی نے بظاہر چین کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے عام انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ہی اندرونی طور پر پاک چین تعاون یونٹ قائم کردیا تھا۔ اپنے منشور میں بھی پی ٹی آئی نے چین کے ساتھ دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیے: 'وزیرِ اعظم' عمران خان کے لیے کون سے چیلنجز منتظر ہیں؟

مگر چین پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات میں عملیت پسند ہیں۔ انہیں سری لنکا میں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا تھا جب ملک کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں چین کی سرمایہ کاری سے خائف یونائیٹڈ نیشنل فرنٹ فار گڈ گورننس اقتدار میں آیا تھا۔ دونوں فریقوں نے کامیابی سے کام کا ایک نیا طریقہ کار وضع کرلیا تھا۔ چین کی نظروں میں اپنی پارٹی کا تاثر بہتر بنانا عمران خان کے لیے شاید بہت بڑا ٹاسک نہ ہو۔ اس کام میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بھی ان کی مدد کرسکتی ہے۔ مگر سی پیک بذاتِ خود ان کی حکومت کے لیے ایک نہایت مشکل ٹاسک ہوگا۔

پہلا چیلنج میگا ڈیولپمنٹ پراجیکٹس کی ملکیت سے متعلق ہوگا۔ مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ چاہتی تھی کہ مسلم لیگ (ن) ایک سی پیک اتھارٹی قائم کرے مگر مسلم لیگ (ن) نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اسی طرح اس وقت بھی تنازع ابھرا تھا جب سی پیک سے متعلقہ منصوبوں پر کام کرنے والے چینی ورکروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن قائم کیا گیا تھا۔ حکومت نے اسے قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کو کنٹرول کرنے کے مترادف تصور کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس وقت تحفظات کا اظہار کیا تھا مگر وہ پاناما پیپرز اسکینڈل کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار تھی اور اس نے زیادہ مزاحمت نہیں کی۔ عمران خان سابقہ حکومت کے تجربے سے سیکھ سکتے ہیں۔

عام پاکستانی بھی تحفظ کے لیے حد سے زیادہ قیمتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں کیوں کہ نیپرا نے ’بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو سی پیک کے تحت لگنے والے 15.56 ارب ڈالر مالیت کے 19 توانائی منصوبوں کی ایک فیصد قیمت ٹیرف کے ذریعے 20 سے 30 سالوں تک کے لیے وصول کرنے کی اجازت دے دی ہے۔‘

حال ہی میں نگران حکومت کے ماتحت سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی نے جون 2018ء سے مؤثر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ٹیرف میں 71 پیسہ فی یونٹ اضافے کی درخواست کی ہے تاکہ سی پیک کے سیکیورٹی اخراجات کو پورا کیا جاسکے۔ اس طرح کی پیش رفتیں بیجنگ میں تشویش پیدا کرتی ہیں جو سمجھتا ہے کہ اس سے عوام میں سی پیک اور چین سے متعلق عدم اعتماد پیدا ہوسکتا ہے۔

غیر ریاستی عناصر کا مسئلہ نئی حکومت کے چین کے ساتھ باہمی تعلقات میں ایک اور پریشان کن معاملہ ہے۔ یہ عمران خان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ پاکستان میں کسی بھی غیر ریاستی عناصر کی موجودگی سے پاکستان پر واشنگٹن اور دیگر بین الاقوامی دارالحکومتوں سے دباؤ پڑے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نئی حکومت کو خارجہ اور اسٹریٹجک امور سے متعلق کئی معاملات پر پوزیشن واضح کرنی ہوگی۔

عمران خان کا حقیقی امتحان ان بیرونی دباؤ اور اس ملک کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 29 جولائی 2018 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔