عمران خان کے اقتدار کو خطرہ ’کب‘ اور ’کیوں‘ ہوسکتا ہے؟

31 جولائ 2018

ای میل

لکھاری ڈان اخبار کے اسٹاف ممبر ہیں۔
لکھاری ڈان اخبار کے اسٹاف ممبر ہیں۔

تو جناب، وزیرِ اعظم عمران خان ہوں گے۔

اس کا کچھ مطلب تو ہمیں معلوم ہے کہ کیا ہے۔ مگر اس کا زیادہ تر مطلب کوئی نہیں جان سکتا۔ دروازہ کھل گیا ہے، مگر اس میں سے کیا باہر آئے گا، شاید ہی کوئی اس پر فی الوقت اندازہ لگانے کو تیار ہو۔

پہلی دفعہ وزیرِ اعظم، پہلی دفعہ حکومت، ایک مانوس سا تجربہ جو کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ یہ آخری نکتہ جمہوریت کے منظم تسلسل کی دوسری دہائی میں سیاست اور طاقت کی رسہ کشی کے لیے اہم ہوگا۔

کیوں کہ تمام تر مخالفت اور تباہی کی پیش گوئیوں کے باوجود عمران خان شاید اس سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوں جو کہ فی الوقت دکھائی دے رہی ہے۔

عمران خان اور وہ لوگ جنہوں نے عمران کو خود سے ہم آہنگ کیا ہے، اگر وہ اکثریتی طور پر ہم آہنگ رہے تو زیادہ مسئلہ نہیں ہوگا۔ جب عمران خان کی ان سے نہیں بنے گی جنہوں نے عمران خان کو پھیلایا ہے، تب بندوبست کا حقیقی امتحان ہوگا۔

مزید پڑھیے: 'وزیرِ اعظم' عمران خان کے لیے کون سے چیلنجز منتظر ہیں؟

اور مستقبل کی چپقلش کی بات کریں تو عمران خان شاید کسی بھی سویلین سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔

قبل از انتخابات اور بعد از انتخابات جو کچھ ہوا جس کی وجہ سے عمران خان اختتامی لکیر کے اتنا قریب آئے، کافی اہم ہے۔ کیوں کہ تنہا پارٹی کی صورت میں انہیں اختتامی لکیر کے نہایت قریب لانے کے اپنے نتائج ہیں۔

قومی اسمبلی میں ایک تنہا اکثریتی پارٹی آئینی طور پر تقریباً بلٹ پروف ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم کو کرسی سے اتارنے کا کوئی واضح طریقہ موجود نہیں ہے۔ بلوچستان کا انٹرا پارٹی روٹ اس وقت کام کرسکتا ہے جب آپ کا ایک بے نام سا وزیرِ اعظم ہو یا پھر بہت بڑے نام والا اسٹیٹس کو سے تعلق رکھنے والا وزیرِ اعظم۔

عمران خان دونوں ہی نہیں ہیں۔

عمران کو درحقیقت قومی اسمبلی میں تنہا اکثریت حاصل نہیں ہے، مگر تمام مقاصد کے لیے ان کے پاس یہ اکثریت ہے۔ وہ نمبر 2 اور نمبر 3 کے اتحاد سے بھی بڑے ہیں اور یہ اگلے 5 سال کی مضبوطی کے لیے کافی ہے۔

سنجرانی آپشن کے لیے نئی نمبر 2 پارٹی کو سیاست کو جوڑنے اور توڑنے والوں کے ساتھ ملنا پڑے گا۔ کیا یہ ناممکن ہے؟ پاکستان میں آپ حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے، مگر یہ کم از کم اگلے دور کے لیے تو اسی طرح ناممکن کے قریب ہے جس طرح سیاست میں کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے۔

مگر دیکھیں، کس طرح پچھلے بندے کے پاس واضح اکثریت تھی اور دیکھیں کہ آج وہ کہاں ہے۔

صحیح ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کے تسلسل کو سب سے بڑا خطرہ، کم از کم براہِ راست خطرہ تو عدالت سے ہے۔ مگر پچھلے بندے کو باہر نکالنے میں عدالت اور جوڑنے اور توڑنے والوں کے درمیان ہم آہنگی نظر آ رہی تھی۔

کیا عدالت یہ کام اکیلے کرسکتی ہے؟

مزید پڑھیے: نئی حکومت کے لیے منتظر کانٹوں کا تاج

افتخار چوہدری ایسا کرنے کے قریب ترین تھے مگر انہوں نے ایک ڈکٹیٹر کو شکست دی تھی اور ایک عوامی شخصیت تھے۔ موجودہ کھیپ میں سے کچھ کو تھوڑی بہت عوامی شہرت تو ملی ہے مگر چوہدری کی طرح مکمل عدلیہ پر کسی کا بھی کنٹرول نہیں ہے۔

وزیرِ اعظم کا شکار کرنے سے قبل آپ کو اپنے پریشر ککر پر سختی سے ڈھکن رکھنا پڑتا ہے۔

شاید اگر عمران آزادانہ طور پر خود کو مسائل میں گھیر لیں تو عدالت آگے بڑھ کر ناک آؤٹ کرسکتی ہے۔ مگر یہ مسائل کہاں سے آئیں گے؟

دھاندلی کے خلاف ممکنہ شورش پر اس بے وقوفی کا دوسرا رخ ہی ہے جو عمران خان کو محفوظ رکھے گا۔

ہر کسی سے عمران خان کو ممکنہ طور پر نمبر 1 جماعت تسلیم کروانے کے بعد اگلا قدم انتہائی چالاک رہا ہے۔ دو درجن یا کچھ نشستوں سے کسے فرق پڑے گا اگر وہ نشستیں ایک واضح مگر شاید داغدار مینڈیٹ کی گارنٹی ہوں؟

اس کا متبادل ایک معلق پارلیمنٹ کے حصول کے لیے کافی خون، پسینہ اور آنسو ہوں گے جس سے کسی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔

حضور عمران خان کے منصوبوں کو تعطل میں ڈال سکتے ہیں، مگر حضور سب کچھ سب کے سروں پر بھی گرا سکتے ہیں۔

ہاں، مگر آخری دھرنا گزشتہ دور کے تقریباً ایک سال بعد شروع ہوا تھا اور اگر ضرورت پڑی تو عمران خان کے خلاف بھی ایسی ہی اپوزیشن کھڑی کی جاسکتی ہے۔ عارضی بندوبست کرنا مشکل نہیں ہے، مثلاً بیرونِ ملک رہنے والے دھرنا میکر یا پھر فیض آباد والی آفت کو یاد کریں تو۔

مگر یہ سب کچھ صرف اُس وقت کام کرتا ہے جب آپ کے پاس ایک قابلِ اعتبار متبادل موجود ہو۔

پچھلے بندے کو ہٹانے کے بعد سے کئی لوگ وزارتِ عظمیٰ کا سیب کھانے کے خواہشمند ہیں: عمران، شہباز، زرداری یا پھر کوئی سنجرانی ٹائپ۔

مگر اب زرداری یا زرداری کا نامزد کردہ بندہ اس سب سے بڑے انعام سے مزید دور ہوگیا ہے۔ سندھ سے باہر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ووٹوں کی بحالی اتنی کم ہے کہ زرداری پھر بھی 2 بڑی پارٹیوں کے کلب میں اپنی جگہ نہیں بنا سکے۔

شہباز فلاپ ہوچکے اور زیادہ بُری بات یہ ہے کہ اپنے بھائی کے جیل میں ہونے کی وجہ سے شہباز کے لیے سب سے بڑا انعام حاصل کرنے کا جواز نہیں بچتا۔ سنجرانی کا آپشن بھی قابلِ عمل نہیں۔

ہاں لیکن ایک باپ بیٹی جیل میں موجود ہیں۔ مگر انہیں عمران خان کو شکست دینے کے لیے پہلے جوڑنے اور توڑنے والوں سے گزرنا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ عمران خان کوئی اتنا بڑا گناہ کر بیٹھیں کہ جوڑنے اور توڑنے والے باپ بیٹی کے جوڑے کے ساتھ جنگ بندی پر سوچنے لگیں۔

مگر آپ کو کیا لگتا ہے، باپ بیٹی کو زیادہ غصہ کس پر ہے: عمران یا ۔۔۔ ؟

تو خان کے متوالوں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ وہ شاید اس سے زیادہ محفوظ ہیں جتنے کہ وہ فی الوقت دکھائی دے رہے ہیں اور شاید، شاید، شاید، بچے کھچے کچھ جمہوری ذہنوں کے لیے خان کے دور کا محفوظ رہنا بھی اچھی بات ہوسکتی ہے۔

کیوں کہ اگر بات لڑائی پر ہے تو جیت ہمیشہ ایک سویلین کی ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیے: کپتان کی اننگز

گڈ لک، وزیرِ اعظم عمران خان۔ امید ہے کہ وہ اپنے دور کا تحفظ اچھی طرح استعمال کریں گے۔ اور اگر وہ نہیں کریں گے اور جوڑنے اور توڑنے والے ان کا پیچھا کریں گے، تو امید ہے کہ عمران عفریت کی طرح ان کا مقابلہ کریں گے۔ کیوں کہ طویل مدت میں ہمارے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے۔

چلیں، جمہوریت کے ایک منظم تسلسل کی دوسری دہائی میں قدم رکھتے ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 29 جولائی 2018 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔