وینزویلا کے صدر ’قاتلانہ حملے‘ میں محفوظ

اپ ڈیٹ 05 اگست 2018

ای میل

وینزویلا کے صدر فوجی پریڈ کے دوران خطاب کررہے ہیں — فوٹو: اے پی
وینزویلا کے صدر فوجی پریڈ کے دوران خطاب کررہے ہیں — فوٹو: اے پی

وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں فوجی پریڈ کے دوران صدر نکولس مدورو مبینہ طور پر ڈرون حملے میں محفوظ رہے جبکہ نیشنل گارڈ کے 7 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فوجی پریڈ کے دوران صدر نکولس مدورو خطاب کررہے تھے۔

اس حوالے سے وینزویلا کے حکام کا دعویٰ ہے کہ ’بارود سے بھرے ڈرون سے حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی‘۔

بعدازاں صدر نکولس مدورو نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’حملہ مجھے قتل کرنے کے لیے کیا گیا اور انہوں نے مجھے مارنے کی کوشش کی‘۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش کاروں نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا ہے اور تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

نکولس مدورو نے اپنے اوپر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کولمبیا پر عائد کی اور کہا کہ ’امریکا میں بیٹھے بعض نامعلوم لوگوں نے حملے کی فنڈنگ کی‘۔

دوسری جانب کولمبیا نے وینزویلا کے صدر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی، کولمبیا کے ایک افسر نے بتایا کہ نکولس مدورو کے الزامات ’بے بنیاد‘ ہیں۔

واضح رہے کہ سرکاری طور پر نشر ہونے والی تقریب میں ڈرون نہیں دیکھا جا سکتا جبکہ دھماکے کی آواز پیدا ہوئی تو صدارتی گارڈز نے صدر کو حفاطتی حصار میں لے لیا جس کے بعد نشریات منقطع ہو گئیں۔

وزیر اطلاعات جارج روڈ ریگز کا کہنا تھا کہ ’حملہ صدر نکولس مدورو پر کیا گیا تھا‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’صدر کے قریب بارود سے بھری چیز دھماکے سے پھٹ گئی‘، ان کا کہنا تھا کہ کراکس کے مختلف حصوں میں بھی پریڈ جاری تھی۔

جارج روڈ ریگز نے بتایا کہ ’صدر نکولس مدورو حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے‘۔

حکومت کی جانب سے حملے میں ’دائیں بازو کی جماعت‘ کے ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا گیا۔

صدر نکولس مدورو نے دوٹوک کہا کہ ’مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ حملہ کولمبیا کے صدر نے کرایا ہے‘۔

ابتدائی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ ’ایسے شواہد ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حملے کی فنڈنگ امریکی ریاست فلوریڈا سے کی گئی‘۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

واضح رہے کہ رواں برس مئی میں منعقد انتخابات میں صدر نکولس مدورو ایک مرتبہ پھر آئندہ 6 برس کے لیے ملک کے صدر منتخب ہوئے۔

وینزویلا تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے جہاں سیاسی بحران کے ساتھ معیشت کی صورتحال بھی ابتر ہے جس کے باعث وینزویلا کا عالمی دنیا کے ساتھ رابطہ بہت کم ہے۔

خوراک اور ادویات کی کمی کے باعث ہزاروں کی تعداد میں وینزویلا کے رہائشی ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مطابق رواں برس مہنگائی غیر معمولی طور پر بہت زیادہ ہوگی۔

55 سالہ صدر نکولس مدورو متعدد مرتبہ اپوزیشن اور امریکا پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ دونوں، ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ’بغاوت‘ کرتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ صدر نکولس مدورو نے 2013 میں اپنے سیاسی حریف کو انتخابات میں شکست دی اور اپنے مخالفین کو الیکٹورل باڈی اور عدالتوں کے ذریعے ’کنارے‘ پر کردیا۔

اس دوران صدر نکولس مدورو کو آرمی کی بھرپور حمایت حاصل رہی جو حکومت کی حمایت کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کی جاتی ہے۔