انتخابات سے متعلق تنازعات نمٹانے کیلئے ’ججز‘ تقرر کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 12 اگست 2018

ای میل

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے الیکشن ٹریبیونل میں انتخابات سے متعلق تنازعات نمٹانے کے لیے ہائی کورٹ کے حاضر سروس ججز کو تقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق کمیشن کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ اس ضمن میں ای سی پی نے رجسٹرار کو مراسلہ ارسال کردیا، جس میں 5 ججز کی فراہمی سے متعلق درخواست کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے حتمی انتخابی فہرستیں شائع کر دیں

اس حوالے سے بتایا گیا کہ الیکشن ٹریبیونل میں ججز کو تقرر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن آئندہ ہفتے جاری ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن ٹریبیونل میں ججز کی تعیناتی سے ہائی کورٹ کے امور متاثر ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں مجموعی طور پر 20 لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتوا ہیں تاہم 10 لاکھ 70 ہزار مقدمات سیشن کورٹس، 2 لاکھ 95 ہزار ہائی کورٹس اور 40 ہزار عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہیں۔

الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق اگر الیکشن ٹریبیونل میں حاصر سروس جج فرائض انجام دیتے ہیں تو الیکشن کمیشن ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو درخواست پیش کرے گا کہ متعلقہ جج کو انتخابی پٹیشن نمٹانے کے علاوہ کوئی بھی دوسرا عدالتی کام نہ سونپا جائے۔

مزیدپڑھیں: الیکشن کمیشن کی کامیاب امیدواروں کو زائد نشستیں چھوڑنے کی ہدایت

خیال رہے کہ عمومی طور پر حتمی انتخابی نتائج کے بعد ہی الیکشن ٹریبیونل میں ججز کی تعیناتی ہوتی ہے اور نتائج کے خلاف 45 دن کے اندر درخواستیں موصول ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

رواں برس الیکشن ٹریبیونل کی جانب سے نوٹیفکیشن تاخیر سے جاری ہوا جس کے بعد انتخابی امیدوار کے پاس 45 دن سے بھی کم وقت بچا ہے۔

خیال رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 ای سی پی کو اجازت دیتا ہے کہ ہائی کورٹ کے حاضر سروس یا ریٹائر جج کو الیکشن ٹریبیونل میں انتخابی نوعیت کے مقدمات نمٹانے کے لیے تعینات کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: نگراں وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ کو سیشن کورٹ کا نوٹس

مذکورہ ایکٹ میں واضح ہے کہ ای سی پی ہائی کورٹ کے متعلقہ چیف جسٹس کی مشاورت کے بعد حاضر سروس جج کو الیکشن ٹریبیونل کے لیے تقرر کرسکتا ہے۔