’قومی اسمبلی کی 11 نشستوں پر ضمنی انتخابات 2 ماہ میں ہوں گے‘

اپ ڈیٹ 14 اگست 2018

ای میل

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے سینئر حکام نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی 11 نشستوں پر ضمنی انتخابات آئندہ 2 ماہ میں منعقد ہوں گے۔

ای سی پی کے سینئر حکام نے ڈان کو بتایا کہ ان 11 نشستوں میں سے 9 نشستیں وہ ہیں جن کو انتخابی امیدواروں نے ایک سے زائد ہونے کی وجہ سے چھوڑا جبکہ این اے 60 راولپنڈی سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی نااہلی جبکہ این اے 103 فیصل آباد سے امیدوار کے انتقال کے باعث انتخابات ملتوی ہوگئے تھے۔

جن امیدواروں نے اپنی اضافی نشستیں واپس کی ہیں ان میں سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان شامل ہیں، جنہوں نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ان میں سے 4 نشستیں واپس کردیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان کا میانوالی کی نشست برقرار رکھنے کا فیصلہ

عمران خان نے این اے 95 میانوالی کی نشست اپنے پاس رکھی جبکہ این اے 35 بنوں، این اے 53 اسلام آباد، این اے 131 لاہور اور این اے 243 کراچی کی نشستیں چھوڑ دیں۔

اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے این اے 132 لاہور کی نشست کو اپنے پاس رکھا جبکہ پی پی 164 اور پی پی 165 کی نشستوں واپس کی، اس طرح ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے این اے 124 لاہور کی نشست چھوڑ کر پنجاب اسمبلی کی پی پی 146 کی نشست اپنے پاس رکھی۔

واضح رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر شہباز شریف کو عمران خان کے خلاف وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے این اے 65 اور این اے 69 کی نشستیں چھوڑ کر پی پی 30 کی نشست اپنے پاس رکھی ہے کیونکہ وہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف اور پی ایم ایل (ق) کی جانب سے اسپیکر کے مشترکہ امیدوار ہیں۔

اس کے علاوہ این اے 59 اور این اے 63 راولپنڈی سے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کو شکست دینے والے تحریک اںصاف کے امیدوار غلام سرور نے این اے 59 کی نشست اپنے پاس رکھ کر این اے 63 کی نشست چھوڑی۔

اضافی انتخابی نشستیں چھوڑنے والوں میں این اے 55 اور 56 سے کامیاب میجر (ر) طاہر صادق بھی شامل ہیں، جنہوں نے این اے 56 کی نشست چھوڑ دی۔

این اے 38 اور پی کے 97 سے کامیاب تحریک اںصاف کے امیدوار علی امین گنڈا پور نے این اے 38 کی نشست اپنے پاس رکھی ہے، اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے پیر سید فضل علی شاہ جیلانی نے این اے 209 کی نشست رکھ کر پی ایس 30 کی نشست چھوڑ دی۔

نشستیں چھوڑنے والوں میں تحریک انصاف کے اسد قیصر بھی شامل ہیں، جنہیں اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے نامزد کیا گیا ہے، انہوں نے پی کے 44 کی نشست چھوڑ کر این اے 18 کی نشست ساتھ رکھی ہے۔

اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی نے این اے 21 کی نشست اپنے پاس رکھ کر پی کے 53 کی نشست خالی کردی۔

یہ بھی پڑھیں: قومی و صوبائی اسمبلی کی 849 نشستوں پر 11ہزار 8سو 55امیدوار

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کے حکام نے ڈان کو بتایا کہ رواں ہفتے انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ صدر مملکت ممنون حسین کی مدت آئندہ ماہ 9 ستمبر کو مکمل ہورہی ہے اور آئین کے مطابق صدارتی مدت ختم ہونے سے 2 ماہ قبل اور مدت کے ایک ماہ بعد صدارتی انتخابات نہیں ہوسکتے۔

تاہم اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کی صورت میں عام انتخابات کے بعد ایک ماہ میں انتخابات ہوسکتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ عمل آئین کی شق کو پورا نہیں کرتا۔


یہ خبر 14 اگست 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی