بھارت 2022 تک پہلا انسان بردار خلائی مشن بھیجنے کا خواہشمند

15 اگست 2018

ای میل

— اے ایف پی فوٹو
— اے ایف پی فوٹو

بھارت نے 2022 تک اپنا پہلا انسان بردار خلائی مشن بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) کی جانب سے انسان بردار خلائی مشن کو اگلے 40 ماہ کے اندر بھیجا جائے گا۔

یہ خلائی مشن 3 رکنی عملے پر مشتمل ہوگا جو کہ زمین کے نچلے مدار پر 5 سے 7 دن تک قیام کریں گے۔

مزید پڑھیں : 104 سیٹلائٹس کا ریکارڈ : 'ہم بھارت سے بہت آگے ہیں'

پہلے انسان بردار خلائی مشن کو بھیجنے کا اعلان بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر کیا۔

ان کا کہنا تھا ' بھارت ہمیشہ سے خلائی سائنس میں آگے رہا ہے مگر اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب بھارت کی آزادی کے 75 سال مکمل ہوگئے، یعنی 2022 میں، تو اس وقت انسان بردار خلائی مشن کو بھیجنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی'۔

آئی ایس آر او کے اس مشن پر 90 ارب بھارتی روپے (ڈیڑھ کھرب پاکستانی روپے سے زائد) خرچ ہوگئے جبکہ اس سے قبل آزمائشی طور پر 2 انسانوں کے بغیر بھی خلائی پروازیں روانہ کی جائیں گی۔

اگر بھارت اس مقصد میں کامیاب ہوگیا تو وہ چوتھا ملک بن جائے گا جو انسانوں کو خلاءمیں بھیجنے میں کامیاب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : ہندوستان کابیک وقت 20 سیٹلائٹس خلاء میں بھیجنے کا ریکارڈ

اس وقت یہ اعزاز امریکا، روس اور چین کے پاس ہے۔

بھارت کے خلائی پروگرام کا بجٹ 1.6 ارب ڈالرز کے قریب ہے جو کہ امریکا کے اسی مد میں مختص فنڈ کا 10 فیصد حصہ بھی نہیں جبکہ روس کے 15 فیصد خلائی بجٹ کے برابر ہے۔

بھارت اس سے قبل 2014 میں مریخ پر پہنچنے والا پہلا ملک بنا تھا اور اس مشن پر صرف 74 ملین ڈالرز خرچ ہوئے تھے، جبکہ ناسا کا Maven مشن کا خرچہ 671 ملین ڈالرز تھا۔