امریکا کی پادری کو رہا نہ کرنے پر ترکی کو مزید پابندیوں کی دھمکی

17 اگست 2018

ای میل

واشنگٹن: امریکا نے ترکی میں قید پادری کو رہا نہ کرنے پر بحران کا شکار ترک معیشیت پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں غیر ملکی خبر رساں اداروں کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکی سیکریٹری خزانہ اسٹویو نیوچن نے کابینہ اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ ’ہم نے ترکی کے متعدد کابینہ اراکین پر پابندیاں عائد کردی ہیں اور اگر وہ پادری کو جلد از جلد رہا نہیں کرتے تو ہم ان کے خلاف مزید منصوبہ بندی کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے سیکریٹری خزانہ کے بیان پر کہا کہ 'ترکی کبھی امریکا کا اچھا دوست نہیں رہا۔'

ترکی میں قید پادری اینڈریو برنسن سے متعلق ان کا کہنا تھا ’وہ ایک عظیم عیسائی پادری اور معصوم انسان ہیں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'امریکا نے بغاوت کے وقت ترکی کا ساتھ دیا تھا لیکن نیٹو اتحادی نے ہمارا احسان نہیں چکایا۔'

انہوں نے کہا کہ ’وہ ہمارے عظٰیم پادری کو روکنا چاہتے ہیں، جو صحیح نہیں۔‘

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی سے درآمدات پر قیمتیں بڑھادیں

ترکی کی پابندیوں پر ردعمل کی دھمکی

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ترکی نے امریکا کی جانب سے مزید پابندیاں عائد کرنے کے خلاف بھرپور جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔

ترک نیوز ایجنسی 'اناطولو' کے مطابق ترک وزیر تجارت روہسار پیکن نے کہا ’ہم نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے قوانین کے تحت امریکی پابندیوں کا جواب دیا ہے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے۔'

ترکی معاشی بحران پر قابو پالے گا، وزیر خزانہ

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترک وزیر خزانہ بیرات البیراق نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ترکی اپنی معاشی بحران پر جلد قابو پالے گا۔

جمعرات کو ہزاروں سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین سے کانفرنس کال کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے بیرات البیراق نے، جو ترک صدر رجب طیب اردوان کے داماد بھی ہیں، کہا کہ 'ہم ترکی کو درپیش تمام اندرونی چیلنجز سے اچھی طرح واقف ہیں۔'

خارجہ نے عندیہ کے ملک کے بینک مستحکم ہیں اور امریکا کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر امریکی ’دھمکی‘ کا مقابلہ کرنے کیلئے پُرعزم

انہوں نے کہا کہ 'امریکا نے کئی دیگر ممالک کو بھی اسی طرح کے اقتصادی اقدامات کا نشانہ بنایا ہے، تاہم ترکی دیگر ممالک جرمنی، روس اور چین کے تعاون سے اس مشکل وقت سے نکل آئے گا۔'

واضح رہے کہ امریکا اور ترکی کی جانب سے ایک دوسرے پر ٹیرف عائد کرنے کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پادری اینڈریو برنسن کو رہا کرنے کے لیے ترک صدر کو رضا مند کرنے کی کوشش کے طور پر ٹیرف عائد کرنے کی منظوری دی۔'

اینڈریو برنسن کو ترک صدر کے خلاف دو سال قبل ہونے والی بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور بعد ازاں جیل سے گھر منتقل کرکے نظر بند کردیا گیا تھا۔

ترکی کے اس اقدام پر امریکا نے 2 ترک وزرا پر پابندی لگادی تھی، پابندی کے ردِعمل میں ترکی نے بھی اس اقدام کا جواب 2 امریکی عہدیداروں پر پابندی لگا کرد یا تھا۔

امریکا اور ترکی کے درمیان جاری اس کشیدگی کے باعث ترک لیرا کی قدر میں اب تک 40 فیصد تک کمی آچکی ہے۔

لیرا کی قدر میں کمی کے باعث ترکی میں سنگین معاشی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے بالخصوص ترکی کا بینکنگ سسٹم بری طرح متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

امریکی صرر نے ترکی سے اسٹیل اور المونیم کی درآمدات پر ٹیرف کو دگنا کرنے کی بھی منظوری دی تھی اور اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیرف کا اثر بہت جلد ظاہر ہوگا۔