حالیہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، اور بالآخر پارٹی صدر جام کمال خان بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوگئے۔

جام میر کمال خان بلوچستان کے ہی سابق وزرائے جام میر محمد یوسف (بالمعروف جام یوسف) کے صاحبزادے جبکہ جام میر غلام قادر خان کے پوتے ہیں جو یکم جنوری 1973 کو بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں پیدا ہوئے۔

نومنتخب وزیرِاعلیٰ بلوچستان نے سابق صدرِ مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور وہ اسی دوران بلدیاتی الیکشن میں کامیابی کے بعد ضلع لسبیلہ کے ناظم منتخب ہوئے۔

جام کمال خان نے 2013 کے انتخابات میں بطور آزاد امیدوار قومی اسمبلی کی نشست این اے 270 لسبیلہ (پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق) سے کامیابی حاصل کی۔

مزید پڑھیں: جام کمال خان 16ویں وزیرِاعلیٰ بلوچستان منتخب

اپنی کامیابی کے بعد جام کمال خان نے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا ثمر یہ ملا کہ انہیں نواز شریف کی کابینہ میں شامل کرلیا گیا اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل تعینات ہوئے۔

پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے نااہل کیا تو ان کی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی۔

نواز شریف کے بعد مسلم لیگ (ن) نے شاہد خاقان عباسی کو ملک کا نیا وزیرِاعظم نامزد کیا اور ان کی کامیابی کے بعد بننے والی کابینہ میں بھی جام کمال خان کو وزارت سے نوازا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاق، صوبے میں بی اے پی کا پی ٹی آئی سے اتحاد، جام کمال وزیراعلیٰ کے امیدوار

اس مرتبہ ان کے حصے میں نئی تخلیق کردہ وزارت ’وزارتِ توانائی‘ آئی۔

سابق وزیراعظم شاہد خاق عباسی کی کابینہ میں جام کمال خان اگست 2017 سے مارچ 2018 تک رہے تاہم سیاسی اختلافات سامنے آنے کے بعد انہوں نے نہ صرف اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا بلکہ مسلم لیگ (ن) سے بھی علیحدگی اختیار کرلی۔

بعدِ ازاں انہوں نے صوبے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں پر مشتمل ایک نئی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) میں شمولیت اختیار کی۔

بی اے پی کی جانب سے مئی 2018 میں انہیں پارٹی کا صدر بنادیا گیا۔

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں بی اے پی نے صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اکثریت حاصل کی اور بلوچستان میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی۔

مزید پڑھیں: جام کمال کو وزیراعلیٰ بلوچستان نامزد کرنے پر بی اے پی میں اختلافات

بی اے پی کی جانب سے جام کمال کو نئے وزیرِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جام کمال خان کے دادا جام میر غلام قادر خان 2 مرتبہ وزیرِاعلیٰ بلوچستان منتخب ہوچکے ہیں۔

پہلی مرتبہ وہ 1972 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرکے وزیرِاعلیٰ منتخب ہوئے جبکہ دوسری مرتبہ انہوں نے ضیاءالحق دور میں آزاد حیثیت سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔

جام کمال خان کے والد جام میر محمد یوسف نے 2002 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی اور وہ وزیرِاعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے تھے۔