جام کمال خان 16ویں وزیرِاعلیٰ بلوچستان بن گئے

اپ ڈیٹ 18 اگست 2018

ای میل

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے سربراہ جام میر کمال خان بلوچستان کے نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوگئے۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کی کارروائی شروع کرتے ہوئے اسپیکر صوبائی اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے جام کمال خان کے حامیوں کو لابی اے میں جانے کی ہدایت کی جبکہ ان کے مدِ مقابل امیدوار میر یونس عزیز زہری کے حامیوں کو لابی بی میں جانے کی ہدایت کی۔

جام کمال خان کے حامیوں کی تعداد 39 تھی جس کے ساتھ ہی وہ صوبے کے نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوگئے جس کا باضابطہ اعلان اسپیکر صوبائی اسمبلی نے کیا۔

نومنتخب اسپیکر صوبائی اسمبلی عبدالقدوس بزنجو کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے نامزد میر یونس عزیز زہری کو 20 ووٹ ملے۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے جام کمال کے حق میں ووٹ دے دیا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کے نومنتخب اراکین اسمبلی نے حلف اٹھالیا

واضح رہے کہ جام کمال سابق وزرائے اعلیٰ بلوچستان جام میر محمد یوسف کے صاحبزادے اور جام میر غلام محمد خان کے پوتے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی: اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب

13 اگست کو بلوچستان اسمبلی میں بی اے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے متفقہ امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو اسپیکر منتخب ہوئے، انہوں نے 39 ووٹ حاصل کیے جبکہ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار حاجی نواز کاکڑ نے 20 ووٹ حاصل کیے۔

حکومتی اتحاد کے امیدوار پی ٹی آئی رہنما سردار بابر موسیٰ خیل ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے، انہوں نے 36 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدِ مقابل بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے احمد نواز کاکڑ نے 21 ووٹ حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا انتخاب: عمران خان کے کاغذات نامزدگی جمع

اپوزیشن جماعتوں میں متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی این پی) اور بی این پی مینگل شامل ہیں۔

اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر راحیلہ حمید درانی نے کی جبکہ اسمبلی میں نئے اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا گیا تھا۔

بلوچستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ

بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے ناراض اراکین نے گزشتہ حکومت کے دوران ہی ہم خیال گروپ ترتیب دیا تھا اور صوبے سے مسلم لیگ (ن) کی حکمرانی ختم کردی تھی۔

بعدِ ازاں ہم خیال گروپ نے جام کمال کی سربراہی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی جس کے پلیٹ فارم سے 2018 کے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں: وفاق، صوبے میں بی اے پی کا پی ٹی آئی سے اتحاد، جام کمال وزیراعلیٰ کے امیدوار

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں بی اے پی صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور صوبائی اسمبلی کی 15 عام نشستوں پر کامیاب ہوگئی۔

صوبے میں متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی این پی مینگل) 7، 7 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھیں۔

حیرت انگیز طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی بلوچستان میں اپنے قدم جماتے ہوئے 6 نشستیں حاصل کیں۔

یہ بھی پڑھیں: جام کمال کو وزیراعلیٰ بلوچستان نامزد کرنے پر بی اے پی میں اختلافات

دیگر جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے پاس 3، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی عوامی) کے پاس 2، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے پاس 2 اور جمہوری وطن پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس ایک ایک نشست تھی جبکہ 5 آزاد امیدوار بھی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔

تاہم خواتین کی مخصوص اور اقلیتی نشستوں کے بعد بی اے پی کی نشستوں کی تعداد 20، ایم ایم اے اور بی این پی مینگل کی 10، 10، پی ٹی آئی کی 7 اور اے این پی کی 4 نشستیں ہوگئی تھی۔