اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے ایک تازہ پورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کے زیر تسلط فلسطینیوں کی حفاظت کا حل نئی ملٹری فورس یا پولیس کے ساتھ شہری مبصرین کی تعیناتی یا اقوام متحدہ کی موجودگی کو بڑھانا ہیں۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایک روز قبل جاری کی گئی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقل جنگی صورت حال کے خاتمے کے کسی بھی آپشن پر عمل درآمد کے لیے اسرائیلی اور فلسطینیوں کا تعاون ضروری ہے۔

رپورٹ میں سیکریٹری جنرل نے فلسطینی شہریوں کی حفاظت اور عالمی حفاظتی طریقہ کار کے لیے تجاویز بھی دی ہیں۔

14 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 50 سال سے قابض اسرائیلی فوج ’مسلسل سلامتی کے لیے خطرہ، کمزور سیاسی اداروں، امن کے قیام میں جمود اور سیاسی، قانونی اور عملی طور پر انتہائی پیچیدہ مسائل کا مجموعہ ہی تحفظ کا سب سے بڑا چیلنج ہیں۔

انتونیو گووتیرس نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی شہریوں کی حفاظت کے لیے کئی دہائیوں سے جاری اسرائیلی فلسطینی تنازع کا سیاسی حل ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ ہدف پورا نہیں ہوتا تب تک جنرل اسمبلی میں موجود 193 ممالک کو فلسطینی شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام عملی اور ممکنہ اقدامات کی تلاش جاری رکھنے کی تجویز دی اور کہا کہ وہ اقدامات اسرائیل کے شہریوں کی حفاظت میں بھی بہتری لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق، سیاسی اور رابطہ کار اقوام متحدہ کی کوششوں کو بہتر کرنے میں مدد کرسکتے ہیں اور اسی طرح فلسطینی شہریوں کی حفاظت کے لیے عالمی برادری کی توجہ اور عزم کا اظہار کرسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے موجودہ پروگرام، انسانی حقوق اور ترقی میں مدد سے فلسطینیوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں مدد بھی ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 19 لاکھ فلسطینیوں کی امداد کے لیے اقوام متحدہ کی 54 کروڑ ڈالر کی اپیل اب تک 24.5 فیصد پوری ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینی پناہ گزین ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کو درپیش فنڈز کی کمی نے ایک خطرناک سماجی اور سیاسی صورت حال پیدا کردی ہے کیونکہ امریکا نے فلسطینی پناہ گزین ایجنسی کو امداد کی مد میں 30 کروڑ ڈالر ادا کرنے تھے لیکن تاحال 21 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ادا نہیں کیے گئے۔

انتونیو گوتیرس نے کہا کہ اقوام متحدہ کے شہری مبصرین یا اقوام متحدہ کی جانب سے ایک نئی فوجی یا پولیس فورس کے قیام کے لیے سیکیورٹی کونسل کی رضامندی ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں کام کرنے والے حالیہ مشن شہریوں کو حفاظت فراہم نہیں کر پارہے اور یہ کونسل پر منحصر ہے کہ وہ تحفظ سمیت ان کے دائرہ کار کو بڑھائیں۔