الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ضمنی انتخابات میں ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی رجسٹریشن کا حکم دے دیا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں نادرا حکام اور الیکشن کمیشن کے دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔

اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ نادرا کو انٹرنیٹ ووٹنگ (آئی ووٹنگ) سافٹ دیئر کا عملی مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور یکم سے 15 ستمبر تک سمندر پار پاکستیوں کی رجسٹریشن مکمل کرنے کا کہا ہے۔

مزید پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کا حق تسلیم

الیکشن کمیشن کے مطابق قومی شناختی کارڈ برائے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں ( نائیکوپ) یا مشین ریڈایبل پاسپورٹ ( ایم آر پی) رکھنے والے تمام سمندر پار پاکستانی رجسٹریشن کرواسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں صرف رجسٹرڈ سمندر پار پاکستانی ہی ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کرسکیں گے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق دفتر خارجہ اور نادرا اس حوالے سے سفارتخانوں کی مدد سے آگہی مہم چلائیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے سے متعلق حق کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ ضمنی انتخابات میں انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی تھی۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے حکم دیا تھا کہ الیکشن کمیشن، نادرا کی معاونت سے انتظامات کو یقینی بنائے اور آئی ووٹنگ کے انتخابی نتائج کو بالکل علیحدہ رکھا جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ بعد ازاں آئی ووٹنگ کے انتخابی نتائج کو ضمنی انتخابات کے نتائج میں شامل کیا جائے تاہم تنازع کی صورت میں آئی ووٹنگ کے نتائج کو علیحدہ کردیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ووٹ: ای ووٹنگ پر ٹاسک فورس کے تحفظات

عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہت مبارک ہو، آج ان کے ووٹ ڈالنے کے حق کو تسلیم کرلیا گیا ہے، اب اس پر عملدرآمد کا معاملہ ہے اور انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ پائلٹ پروجیکٹ بنانے پر الیکشن کمیشن اور نادرا کے مشکور ہیں لیکن اس منصوبے کو الیکشن کمیشن کے قوائد اور آپریشن پلان کے تحت مکمل کیا جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ نادرا پائلٹ پروجیکٹ کے انتخابی عمل کو فول پروف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے، تجرباتی نفاد کا مقصد یہ نہیں کہ اس کے نتائج کو نظر انداز کردیا جائے۔