سندھ کے ضلع تھرپارکر میں گزشتہ دو روز کے دوران وائرل انفیکشن اور غذائی قلت کے باعث مزید 8 بچے انتقال کرگئے۔

محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 7 بچے سول ہسپتال مٹھی میں دم توڑ گئے اور ایک بچہ اسلام کوٹ کے مضافاتی مرکز صحت میں انتقال کرگیا۔

متاثرہ والدین کی جانب سے مٹھی میں صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی اور مٹھی میں چلنے والے دیگر سرکاری مراکز صحت میں ناکافی سہولیات کی شکایات کی گئیں جبکہ علاقے میں مون سون کے دوران بارش نہ ہونے کے باعث خشک سالی کا شکار ہے۔

محکمہ صحت کے عہدیداوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نومولود اور ان 8 بچوں سمیت رواں ہلاکتوں کی تعداد 407 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تھر میں غذائی قلت سے مزید 4 نومولود دم توڑ گئے

خیال رہے کہ وزیرصحت سندھ ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو نے مٹھی اور چھاچھرو کے ہسپتالوں کے دورے کے دوران بچوں کی اموات کا ذمہ دار والدین کو ٹھہرایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) حکومت نے تھرکول جیسے میگاپروجیکٹس کے ذریعے تھر میں انقلاب لایا ہے۔

صوبائی وزیرصحت کے مذکورہ بیان کے بعد انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور عوام نے سوشل میڈیا میں شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس بیان کو ‘غیر ذمہ دارنہ قرار’ دے دیا۔

خیال رہے کہ غذائی قلت اور وائرل انفیکشن کے باعث 21 اگست کو بھی مٹھی میں 4 نومولود دم توڑ گئے تھے۔

دوسری جانب سندھ کی نومنتخب کابینہ نے اپنے پہلے اجلاس میں تھر اور عمر کوٹ کے کچھ حصے کو قحط زدہ علاقہ قرار دے دیا تھا۔