دانتوں کے لیے نقصان دہ غذائیں

29 اگست 2018

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کیا آپ اکثر کیویٹیز، مسوڑوں کے امراض، دانتں کی حساسیت یا ان پر بدنما داغ کے شکار ہوجاتے ہیں؟ تو پھر آپ کو اپنی غذا پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ہوسکتا ہے آپ ایسی غذائیں استعمال کررہے ہوں یا سخت چیزوں کو چبا رہے ہوں جو دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

دانتوں پر برش اور خلال کے ساتھ ساتھ چند غذاﺅں کے استعمال میں احتیاط جگمگاتے اور صحت مند دانتوں کے لیے بہت ضروری ہے۔

مزید پڑھیں : دانتوں کے لیے تباہ کن 10 عادات

ٹافیاں

سخت ٹافی چینی سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ دانتوں پر گندگی اور جراثیموں کے اجتماع کا باعث بن سکتی ہے، چونکہ یہ سخت ہوتی ہے تو انہیں توڑنے کے لیے دانتوں کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے جس سے دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچ سکتا ہے، تو اس کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

ترش پھل

مالٹے، کینو غرض بیشتر ترش پھل وٹامن سی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں مگر ان کا بہت زیادہ استعمال دانتوں کی سطح کمزور کرنے کا باعث بنتا ہے اور ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کافی یا چائے

چائے یا کافی کو اگر چینی ڈال کر پیا جائے تو اس سے کیویٹیز کا امکان بڑحتا ہے، خصوصاً کافی منہ کو خشک کرنے کا باعث بنتی ہے، اسی طرح ان مشروبات کا بہت زیادہ استعمال دانتوں پر داغ جمنے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

میٹھے مشروبات

سوڈا دانتوں پر جراثیموں کی شرح بہت زیادہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے جو کہ دانتوں کی سطح پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ منہ کو خشک کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں کیونکہ ان مشروبات کا استعمال لعاب دہن کی پیداوار کم کرتا ہے جبکہ دانتوں پر داغ بھی پڑے ہیں۔

چپس

یہ چپس نہ صرف جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ ان میں موجود نشاستہ منہ میں جاکر شکر میں تبدیل ہوجاتا ہے جو کہ دانتوں کے درمیان پھنس جاتا ہے، جس سے جراثیموں کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دانتوں کے مسائل سے نجات دلانے میں مددگار غذائیں

سیگریٹ نوشی

سیگریٹ نوشی بھی دانتوں کے لیے نقصان دہ ہے جو کہ دانتوں کو زرد کرنے کا باعث تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ یہ عادت مسوڑوں میں بیکٹریا کی شرح افزائش میں نمایاں اضافہ کردیتی ہے۔

انرجی ڈرنکس

سوڈے کی طرح انرجی ڈرنکس میں بہت زیادہ تیزابیت اور چینی ہوتی ہے جو کہ دانتوں کی تباہی کی رفتار کو بڑھا دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں انرجی ڈرنکس دانتوں پر داغ بھی ڈال دیتے ہیں اور ان کے زیادہ استعمال سے دانت گرم یا ٹھنڈے مشروبات کے لیے بہت زیادہ حساس بھی ہوجاتے ہیں۔