کوئٹہ: متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو ووٹ نہیں دیا اسی وجہ سے عمران خان وزیرِاعظم بن گئے۔

صوبائی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات ہوتے رہتے ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ وزیرِاعظم کے انتخاب کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو ووٹ نہیں دیا تو اسی وجہ سے عمران خان وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوگئے۔

مزید پڑھیں: صدارتی انتخاب: اعتزاز احسن، عارف علوی، فضل الرحمٰن کے کاغذاتِ نامزدگی منظور

اپنے الزامات کو دہراتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں بد ترین دھاندلی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ وہ عام انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور نتائج کو قبول نہ کرنا تمام سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے، کیونکہ الیکشن کمیشن مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اپوزیشن کی جانب سے ایک متفقہ صدارتی امیدوار چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی والے قربانی دیں اور اپوزیشن کی جیت کے امکان روشن کریں۔

یہ بھی پڑھیں: صدارتی انتخاب: ’مجھے امید سے زائد ووٹ ملیں گے‘

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ’ہم نے اپنے وفد کو پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب بھیجا اور ان سے درخواست کی تھی کہ آپ اپنا امیدوار دستبردار کریں، کیونکہ وہ صرف ایک جماعت کا نمائندہ ہے اور اس طرح حزبِ اختلاف بھی کمزور ہوگی‘۔

جب ان سے متحدہ اپوزیشن کی جماعت کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر سوال کو گول مول کردیا کہ وہ خود کے لیے اپنے ’دوستوں‘ کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔

خیال رہے کہ صدرِ مملکت ممنون حسین کے عہدے کی میعاد 8 ستمبر کو ختم ہو رہی ہے، جبکہ ملک کے نئے صدر کے لیے 4 ستمبر کو انتخاب ہوگا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہے جبکہ حکمراں جماعت تحریک انصاف کی جانب سے ڈاکٹر عارف علوی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا۔