’بہتر تعلقات کیلئے امریکی خواہش کے مطابق کام کرنا ہوگا‘

اپ ڈیٹ 03 ستمبر 2018

ای میل

واشنگٹن: امریکی حکومت اور نئی پاکستانی حکومت کے تعلقات میں تلخیاں آنے کے بعد واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان، امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے تو اسے افغانستان کے حوالے سے امریکی حکمتِ عملی پر عمل کرنا ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ افغانستان میں امن کے حصول کے لیے طالبان کو فوجی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے کابل کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کیا جائے۔

اس حوالے سے واشنگٹن کو یقین ہے کہ طالبان اور کابل کے مل کر کام کرنے سے امریکی فوج کی افغانستان سے باعزت واپسی ممکن ہوسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے پاکستان کی عسکری امداد روک دی

امریکی حکومت نے پاکستان کو گزشتہ ہفتے واضح الفاظ میں پہلا پیغام پہنچا دیا تھا جب امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں موجود تمام دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ابتدا میں پاکستانی حکومت نے اس گفتگو کے بارے میں امریکی مؤقف کو مسترد کردیا تھا لیکن بعد میں اپنے مؤقف سے دستبردار ہوگئی تھی۔

اس حوالے سے دوسرا پیغام اس وقت دیا گیا جب رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے واشنگٹن میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی سیکریٹری مائیک پومپیو اور امریکی ملٹری چیف اسلام آباد جا کر پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے زور دیں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے پاکستان کیلئے 25 کروڑ ڈالر سے زائد عسکری امداد روک دی

بعد ازاں 2 روز قبل پینٹاگون نےامریکا کی افغان حکمتِ عملی کی حمایت میں فیصلہ کن اقدامات نہ کرنے کا الزام لگا کر پاکستان کو فراہم کی جانے والی 30 کروڑ ڈالر امداد روکنے کا اعلان کیا تھا۔

اس حوالے سے واضح مؤقف اپناتے ہوئے امریکی اسسٹنٹ آف ڈیفنس فار ایشین اینڈ پیسِفک سیکیورٹی افیئرز ’رینڈال جی شیریور‘ کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں امریکی جنگ ختم ہونے سے قبل امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی سیکیورٹی امداد کی بحالی ممکن نہیں اور اس سلسلے میں مزید پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں کیوں کہ واشنگٹن کو چین کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات پر سخت تشویش ہے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امداد میں کٹوتی کرنے اور پاکستان پر طالبان سے تعلقات کے حوالے سے دباؤ بڑھانے کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس سے دہشت گردی کے نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے انہیں مذاکرات کی میز پر لانا ممکن ہوسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کیلئے ’شدید دباؤ‘ ڈال رہا ہے، نکی ہیلے

دوسری جانب ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی حکومت، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو پالیسی کی تشکیل کےلیے مناسب وقت دینا چاہتی ہے۔

امریکی حکومت کی افغانستان میں جنگ ختم کرنے کی خواہش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 17 سال ایک طویل عرصہ ہوتا ہے کسی جنگ کو جاری رکھنے کے لیے، ضروری ہے کہ اب اسے ختم کردیا جائے، ہم چاہتے ہیں کہ اسے ختم کردیا جائے۔