خیبرپختونخوا میں کینسر کے ’مفت علاج‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی

03 ستمبر 2018

ای میل

خیبرپختونخوا میں کینسر کے مریضوں کے مفت علاج کا ماڈل برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق نجی اداروں کے اشتراک سے خیبرپختونخوا کے شعبہ صحت کی جانب سے کینسر کا مفت علاج فراہم کرنے کا منصوبہ دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کررہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مفت علاج کے منصوبے کا یہ ماڈل دیگر ترقی پذیر ممالک میں بنائے جانے کا امکان ہے۔

شعبہ صحت کی جانب سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے شعبہ اونکولوجی (کینسر) میں شروع کیے جانے والے اس منصوبے سے اب تک 2 ہزار ایک سو افراد مستفید ہوئے ہیں اور مریضوں کے بچنے کے امکانات 88 فیصد ہوگئے ہیں۔

پروفیسر عابد جمیل کا کہنا ہے کہ شعبہ کے سربراہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیے پریزینٹیشن تیار کریں گے، جس میں شعبہ صحت کی جانب سے کینسر کے مریضوں کے لیے مفت علاج کے ماڈل سے متعلق بتایا جائے گا۔

پروفیسرعابد نے ڈان کو بتایا کہ ' دنیا بھر میں اینٹی کینسر ادویات، تشخیص اور پروسیجر کے مہنگے ترین اخراجات سے متعلق ایک بحث ہوتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں تحقیق بھی ہوتی رہی ہے کہ کس طریقہ کار کے تحت ان مریضوں کا علاج کیا جائے جو مہنگی ترین ادویات کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ ' ہم برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں 9 ستمبر کو ایک پریزینٹیشن دیں گے جس میں اس منصوبے کو بنانے اور اس پر عملدرآمد کیے جانے سے متعلق آگاہی دی جائے گی۔'

پروفیسر عابد نے بتایا کہ شعبہ صحت نے یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے دوا ساز فرم نووارٹس کے اشتراک سے 2011 میں شروع کیا تھا تاکہ بلڈ کینسر کی جنگ لڑتے غریب مریضوں کا علاج کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ 'اس منصوبے میں کمپنی نے 90 فیصد اور حکومت نے 10 فیصد اخراجات اٹھائے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ' ادویات بنانے والی کمپنیاں حکومت کے ساتھ کیے گئے اس منصوبے کا دائرہ کار بڑھارہی ہیں تاکہ لوگ مفت علاج کی سہولیات حاصل کرسکیں'۔

برطانوی کینسر کیئر کمیشن نے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کا ماڈل کانفرنس میں پیش کرنے کے لیے منظور کرلیا ہے تاکہ دیگر ممالک خصوصاً ترقی پذیر اس سے مستفید ہوسکیں۔

پروفیسر عابد کا کہنا تھا کہ بعض لوگوں کو ہیلتھ سیکٹر میں سہولیات اور انشورنس کے باعث کینسر کے علاج تک رسائی تھی لیکن غریب مریض ادویات نہ ملنے کے باعث کینسر سے جاں بحق ہورہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کا ماڈل ہی سندھ اور پنجاب میں کینسر کے مریضوں کے علاج معالجے کے لیے قائم کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ' ہم نے اسی طرز کا ماڈل گلگت بلتستان کے عوام کے لیے بنانے کا کام شروع کردیا ہے تاکہ وہ افراد جنہیں علاج کے لیے پہنچنے میں مسائل کا شکار ہیں انہیں فائدہ پہنچے۔

پروفیسر عابد کا کہنا ہے کہ ابھی گلگت بلتستان کے رہائشی کینسر کے علاج کے لیے اسلام آباد اور پشاور جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ' ہم نے مریضوں کی علاج معالجے پر 15 ارب روپے صرف کیے ہیں، اس میں حکومت کا حصہ صرف ایک ارب روپے تھا جبکہ دیگر رقم دوا ساز کمپنی کی جانب سے فراہم کی گئی تھی جس کے ساتھ اس ضمن میں معاہدہ طے پایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں دیگر فارماسییوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ ادویات کو کم ریٹ پر فراہم کیے جانے کے لیے معاہدہ طے پایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک فرم نے 35 فیصد اور دوسری 70 فیصد کمی کرنے پر رضامند ہوئی ہے۔

یہ خبر ڈان اخبار میں 3 ستمبر 2018 کو شائع ہوئی