بیوروکریسی کی شکایتیں کسی بڑے تنازع کا پیش خیمہ؟

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2018

ای میل

لاہور: پنجاب میں افسران کی جانب حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین اسمبلی کے احکامات کو نہ ماننا اور ان ’ احکامات ‘ کے بارے میں اعلیٰ حکام اور عدلیہ کو خط لکھنا پنجاب میں خوف کا باعث ہے اور سول بیوروکریسی کی جانب سے اس طرح حد پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سول بیوروکریسی نے پنجاب کے 2 ڈپٹی کمشنر پر کام میں ’ سیاسی مداخلت ‘ کے الزام لگا کر اعلیٰ حکام کو خط لکھے تھے۔

اعلیٰ سول سروںٹ کی جانب سے اپنے ماتحتوں کو منتخب حکومت سے مشاورت کرنے کے بارے میں کہنے کے باوجود یہ گشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، تاہم اگر ان کی کچھ اہم وجوہات پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوگا کہ تمام صورتحال کی وجوہات کیا ہیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی بیوروکریسی میں اعلیٰ سطح پر تقرر اور تبادلے

اس بارےمیں ایک درمیانی درجے کے افسر کا کہنا تھا کہ ’افسران کی جانب سے حکام کو منع کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ افسران اس طرح کی کارروائی سے بچنا چاہتے ہیں جس سے انہیں عدالت یا قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ ’ عدالتوں یا نیب میں ذلت اٹھانے سے بہتر ہے کہ بہادر بن کر منع کردیا جائے ‘

خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) چکوال غلام صغیر شاہد نے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان پر انتظامی معاملات میں سیاسی مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

چکوال کے بعد تحریک انصاف کے راجن پور کے رکن قومی اسمبلی کی جانب سے بھی انتظامی معاملات میں سیاسی مداخلت کا معاملہ سامنے آئے تھے۔

دوسری جانب نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر افسران نے ڈان کو بتایا کہ چکوال اور راجنپور کے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ اظہار یکجہتی دکھانے کےلیے سرکاری ملازمین مزید ردعمل ظاہر کر رہے ہیں تاکہ انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی جاسکے کہ کسی سخت کارروائی کی صورت میں وہ تنہا نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکپتن کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر ( ڈی پی او) رضوان گوندل کے تبادلے کے کیس میں چیف جسٹس کی جانب سے اس بات کے واضح اعلان کے بعد کہ سرکاری معاملات میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی کہ بعد یہ تاثر سامنے آرہا کہ کسی بھی غیر معمولی دباؤ میں حکام عدالت سے ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے مسلسل یہ بیانات دیے گئے تھے کہ وہ آزاد سول انتظامیہ چاہتےہیں اور ان کی خواہش ہے کہ پولیس کے قوانین تبدیل کرنے اور پنجاب میں فورس کو آزاد اور سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے لیے سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا پولیس ناصر درانی کو تعینات کیا جائے، تاکہ سرکاری حکام کو کسی بھی غیر قانونی اقدام کے خلاف مزاحمت کا حوصلہ مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی کی انتظامی معاملات میں مداخلت

اس حوالے سے ایک افسر کا کہنا تھا کہ ’ گزشتہ ہفتے لاہور میں بیوروکریسی کے لوگوں سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں سینئر حکام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سرکاری ملازمین کی آزادی یقینی بنائیں گے‘۔

حکام کی جانب سے اس بات کی طرف نشاندہی کی گئی چکوال اور راجنپور کے ڈی سیز کا تعلق پروونشل مینجمنٹ سروس (پی ایم ایس) سے ہے، جن کا اپنا ایک نظام ہے، تاہم صوبائی حکام سابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ( سابق ڈی ایم جی) کے ساتھ خوش نہیں اور وہ ان پر انتظامی اجارہ داری اور تعصب کا الزام لگاتے ہیں۔

علاوہ ازیں کچھ سینئر حکام کی جانب سے یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ وہ صرف تحریری حکم پر عمل کرتے ہیں، لہٰذا کسی بھی مرحلے میں اٹھنے والے سوالات کو ضرورت کے مطابق آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔