ملتان میٹرو بس منصوبے کے ڈائریکٹر سمیت 6 افراد زیر حراست

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2018

ای میل

ملتان: قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملتان میٹرو بس منصوبے (ایم ایم بی پی) کے ڈائریکٹر سمیت 6 عہدیداروں کو گرفتار کرلیا۔

حراست میں لیے گئے افراد میں منصوبے کے ڈائریکٹر صابر خان سدوزئی، ایگزیکٹو انجینیئرز امانت علی اور ریاض حسین، سب ڈویژنل افسران منظور احمد، رانا وسیم اور منعم سعید شامل ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملزمان کا جسمانی ریمانڈ آج (جمعے کو) احتساب عدالت سے حاصل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کا ملتان میٹرو بس منصوبے کی تحقیقات کا حکم

ذرائع کے مطابق سب ڈویژنل افسران (ایس ڈی اوز) کو ملتان ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی عمارت سے گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر کو نیب کے ریجنل آفس طلب کر کے حراست میں لیا گیا۔

واضح رہے کہ صابر خان سدوزئی کو منصوبے پر کام کرنے والی ایجنسی 'ایم ڈی اے' میں شعبہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس نے ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا تھا، جو 9 اکتوبر 2015 کو ریٹائر ہوگئے تھے۔

بعد ازاں انہیں گریڈ 20 کے افسر کی تنخواہ اور مراعات کے ساتھ تکنیکی مشیر کے طور پر 10 اکتوبر 2015 سے 30 جون 2016 کی مدت تک کے لیے تعینات کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: چینی سفیر کی ملتان میٹرو بس پروجیکٹ میں کرپشن کی تردید

خیال رہے کہ سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے 'ایم ایم بی پی' میں مبینہ بدعنوانی کا معاملہ نیب کے سپرد کیے جانے کے بعد نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ہدایات پر دسمبر 2017 میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

واضح رہے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے منصوبے میں غیر قانونی طور پر چین بھیجے جانے والے لاکھوں ڈالر کی تفصیلات فراہم نہیں کی۔

ابتدا میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مذکورہ رقم ’یابائیتے پاکستان کنسٹرکشن گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ سے منسلک چینی کمپنی ’یابائیتے ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ‘ کو بھیجی گئی تھی۔

اس سلسلے میں نیب نے پنجاب حکومت کی مزاحمت کے باوجود منصوبے سے متعلق مکمل ریکارڈ حاصل کرلیا تھا، جس کے ابتدائی تخمینے میں 2 ارب روپے کا غبن سامنے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے ملتان میٹرو بس منصوبے کے مالی لین دین کی تفصیلات طلب کرلیں

واضح رہے کہ 2 مراحل پر مشتمل 37 کلو میٹر طویل منصوبے کی تعمیر کے لیے کیے گئے سروے میں اس کا 35 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ صرف پہلے مرحلے کی تعمیر 28 ارب 37 کروڑ روپے میں کی جائے گی لیکن منصوبے کی تکمیل میں 32 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی۔

منصوبے کے تخمینے میں میٹرو روٹ کے لیے 35 بسیں، دیگر شہروں کے لیے 100 بسیں، آپٹیکل فائبر کی تنصیب، ایلیویٹرز، لائٹس اور دیگر چیزیں شامل نہیں تھے، لیکن یہ اخراجات پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ذریعے کیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے میں شامل تعمیراتی کمپنیوں نے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی غرض سے میٹرو بس کی راہداری کی چوڑائی 10 میٹر سے گھٹا کر 9 میٹر کردی جس سے مسافروں کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا۔