کراچی: سی ٹی ڈی کا 5 دہشت گرد گرفتار کرنے کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2018

ای میل

کراچی: پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے داعش، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے 5 مبینہ دہشت گردوں کو علیحدہ علیحدہ کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔

سی ٹی ڈی کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ جنید شیخ کا کہنا تھا کہ اورنگی ٹاؤن میں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے 3 افراد، حافظ عمران خان، زاہد خان اور عصمت اللہ، کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردوں کے علاج کے علاوہ مالی معاونت اور چندے اکٹھے کرتے تھے۔

ان کے مطابق گرفتار ملزمان 2016 میں سوات میں فوج کے وفد پر ہونے والے حملے میں بھی ملوث تھے۔

پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ انہیں خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ مبینہ ملزمان محرم الحرام میں شہر میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں: کراچی: رینجرز کی کارروائی، گینگ وار کے 3 دہشت گرد گرفتار

علاوہ ازیں پولیس نے کورنگی کے علاقے میں ایک علیحدہ چھاپے کے دوران کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے دو مشتبہ افراد، عبدالرشید احمد اور غلام دستگیر، کو بھی گرفتار کیا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کے حکام نے دعویٰ کیا کہ گرفتار دونوں ملزمان ریلوے ٹریک پر بم حملے میں ملوث تھے اور بم بنانے کے ماہر ہیں۔

ملزمان نے 2017 میں اوباڑو اور گھوٹکی میں ریلوے ٹریک پر بم حملے کیے تھے۔

تحقیقاتی پیش رفت

ایس ایس پی نے بتایا کہ دوران تفتیش گرفتار ملزم حافظ عمران خان نے مردان سے بی فارمیسی کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور اس نے خیبر پختونخوا میں پاک فوج سے جھڑپ میں زخمی ہونے والے 2 دہشت گردوں کا علاج بھی کیا تھا۔

اس نے انکشاف کیا کہ وہ اب تک 32 زخمی دہشت گردوں کا علاج کرچکا ہے اور داعش کے لیے چندہ اکٹھا کرتا ہے۔

جنید شیخ کا کہنا تھا کہ زیر حراست ملزم زاہد خان عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ تھا اور وہ سہراب گوٹھ میں بھتہ وصول کیا کرتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اے این پی کے زوال کے بعد زاہد خان نے ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے لیے چندہ اکٹھا کرکے ٹی ٹی پی سہراب گوٹھ کے سربراہ کو فراہم کیا کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: القائدہ بر صغیر کا انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار

ٹی ٹی پی کے ملزمان نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ کراچی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف تھے اور انہیں سیکیورٹی اہلکاروں کو جہاں بھی ملیں مارنے کی ہدایت تھی۔

ایس ایس پی نے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی کے 6 اہلکار سہراب گوٹھ کے علاقے میں موٹرسائیکل پر گھوم کر سیکیورٹی فورسز کے آسان ہدف کی اطلاع امیر خان کو دیا کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کراچی کے سربراہ اس ہی شہر کے سابق پولیس افسر ہیں جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔

گرفتار تیسرے ملزم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عصمت اللہ افغانستان کے صوبے زابل میں پیدا ہوا اور بلوچستان کے علاقے پشین میں قیام پذیر تھا۔

اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ پاکستان کی جانب سے افغان جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے پر ریاست سے نالاں تھا جس کی وجہ سے اس نے لشکر جھنگوی میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان کا حصہ بنا۔

ایس ایس پی کے مطابق ملزم مبینہ طور پر آئی ای ڈی بم بنانے کا ماہر ہے اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف جنگ سمیت نیٹو کنٹینرز پر حملوں میں ملوث ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی

سی ٹی ڈی کے ایس ایس پی جنید شیخ نے ڈان کو بتایا کہ بی ایل سے تعلق رکھنے والے گرفتار غلام دستگیر کا تعلق سندھ کے علاقے گھوٹکی سے ہے اور اس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے بی ایل اے میں 2007 میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس کے سندھی قوم پرست تنظیم سے بھی روابط ہیں اور مبینہ طور پر 2016 اور 2018 میں گھوٹکی میں ریلوے کی پٹریوں پر حملے میں ملوث تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: سی ٹی ڈی کا لشکر جھنگوی کے مبینہ 4 دہشت گرد گرفتار کرنے کا دعویٰ

افسر کے مطابق غلام دستگیر نے کالعدم تنظیم میں شمولیت بیرون ممالک میں مقیم بلوچ قوم پرستوں کی تقریر سننے کے بعد کی تھی۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کے گرفتار رشید احمد کا تعلق بلوچستان کے علاقے مستونگ سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رشید احمد نے نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد کالعدم تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔