ای میل

پٹیالہ گھرانے کا شُدھ گائیک: اسد امانت علی خان

خرم سہیل

موسیقی کی ایک محفل اپنے عروج پر تھی، گائیک سُر اور تال کے تھان کھول کھول کر لپیٹ رہا تھا۔ سنگت میں طبلے والا بھی پوری طرح شریک تھا، کافی دیر تک سُر اور تال ایک دوسرے سے جگل بندی کرتے رہے، خیال اور طبلہ ایک دوسرے سے دوبدو رہے، لیکن گائیک نہیں جانتا تھا، یہ محفل اس کی زندگی کی آخری چند محفلوں میں سے ایک ہے۔ جگل بندی کے اس فنی مکالمے میں گائیکی نے موسیقی کے اعلیٰ ترین درجے کو چھولیا، توصیف کا شور تھما اور شاندار محفل تمام ہوئی تو اس فنکار کا عہد بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔

اپنے فن کے عروج پر پہنچ کر رخصت ہونے والے اس گائیک کا نام ’اسد امانت علی خان‘ تھا جبکہ جگل بندی میں ان کا ساتھ دینے والے طبلہ نواز محمود علی ہیں۔ یہ ایک نجی ٹیلی وژن سے براہِ راست نشر ہونے والی محفلِ موسیقی تھی، جس میں دونوں فنکاروں نے اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ ایک جو گائیک تھا، اس کو دنیا جانتی ہے، دوسرا طبلہ نواز ہے، جس سے اکثریت ناواقف ہے، لیکن دونوں کو اپنے فن میں یکساں مہارت رہی۔

اسد امانت علی خان
اسد امانت علی خان

اپنے فن کے عروج پر پہنچ کر رخصت ہونے والے اس گائیک کا نام ’اسد امانت علی خان‘ تھا
اپنے فن کے عروج پر پہنچ کر رخصت ہونے والے اس گائیک کا نام ’اسد امانت علی خان‘ تھا

اس محفلِ موسیقی کی ایک ریکارڈنگ کا لنک یہاں دستیاب ہے، جس میں دونوں فنکاروں کا ہنر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ مرزا غالب کی ایک غزل ’دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں‘ کو یہ سُریلا گائیک کس رچاؤ سے گا رہا ہے اور طبلہ نواز اس میں کیسے ردھم کی چاشنی اُنڈیل رہا ہے۔ ایسی گائیکی، جس میں دورِ حاضر کی تیز رفتار زندگی کو کچھ دیر کے لیے روک کر، آنکھیں بند اور دل کی کھڑکی کھول کے سننا پڑتا ہے۔

اسد امانت علی خان نے اُس محفلِ موسیقی میں براہِ راست طبلہ نواز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے جس طرح اس کے فن کی داد دی، یہ ہی وہ رُخ بیان کرنا یہاں مقصود تھا، جس کی وجہ سے ان کی گائیکی میں چاشنی کے ساتھ روشنی بھی رہی۔

وہ صرف ایک اچھے گائیک ہی نہیں، عمدہ انسان بھی تھے، جس کے دل کی نرمی کا عالم یہ تھا کہ اپنے والد امانت علی خان جس غزل کو گاتے اس جہان سے رخصت ہوئے، انہوں نے اسی غزل کو گاکر اپنے کیرئیر کی ابتدا کی۔ والد کی یاد میں ساری عمر اس غزل کی بازگشت کو اپنے سینے سے لگا کر رکھا، جب یاد آتی، اسے گالیتے تھے۔ وہ ’ابن انشا‘ کی لکھی ہوئی غزل ’انشاجی اٹھو اب کوچ کرو‘ تھی۔

اسد امانت علی خان کا تعلق کلاسیکی موسیقی کے معروف ’پٹیالہ گھرانے‘ سے تھا۔ برِصغیر پاک و ہند میں مغل دور کے زمانے سے اس گھرانے کی خدمات جاری ہیں۔ ان کے پَردادا کا نام جرنیل علی بخش تھا، جبکہ دادا کا نام استاد اختر حسین تھا۔ والد کا نام امانت علی جبکہ چچا فتح علی خان تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی شفقت امانت علی پاکستان کے موجودہ موسیقی کے منظرنامے پر مقبول گلوکار ہیں اور اب ان کے بیٹے سکندر امانت علی بھی موسیقی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہ اپنے والد کا نام روشن رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

اسد امانت علی کی جوانی کی تصویر
اسد امانت علی کی جوانی کی تصویر

اسد امانت علی خان نے اپنے فن کا عملی مظاہرہ پہلی مرتبہ 10 برس کی عمر میں کیا۔ 25 ستمبر 1955ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، جبکہ 8 اپریل 2007ء کو لندن میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے۔ یہ ابھی لڑکپن میں ہی تھے جب ان کے والد کی رحلت ہوئی، اُن کی موت کا غم یہ زندگی بھر نہ بھلاسکے اور ان کی یاد میں گاتے گاتے رونے لگتے، یہی غم زندگی بھر ان کے دل سے بھی قریب رہا۔

مزاج میں نرماہٹ اور دھیما پن تھا، اعلیٰ شعری ذوق کے حامل تھے۔ یہی وجہ ہے کلاسیکی موسیقی میں بالخصوص خیال، کافی گانے کے ساتھ ساتھ غزل اور گیتوں میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔ فلمی دنیا میں انہوں نے بے شمار گیت گائے، جن کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ چند ایک فلمیں، جن کے لیے انہوں نے اپنی آواز کا جادو جگایا، ان میں سہیلی، نقشِ قدم، زندگی، شامِ محبت اور دیگر شامل ہیں۔

ریڈیو پاکستان سے پہلی پیشہ ورانہ وابستگی کم عمری میں ہی ہوگئی تھی۔ اس کے بعد پی ٹی وی کے آنے پر، وہاں کے ابتدائی فنکاروں میں بھی شامل تھے۔ معروف موسیقار نثار بزمی کی مرتب کردہ دھنوں سے باقاعدہ طور سے متعارف ہوئے، پھر تو ان کی شہرت کا سورج ایسا طلوع ہوا، جس کی چمک دمک ان کی حیات کے خاتمے تک ماند نہ پڑی۔

عجیب اتفاق ہے کہ نثار بزمی اور ان کی رحلت کے درمیان وقفہ صرف ایک ہفتے کا ہے۔ دونوں اپنے فن کے بڑے، آگے پیچھے اس دنیا سے چلے گئے۔ اپنے والد کی یاد میں اسد امانت علی خان، گائیکی کے صحرا میں ایسے مسافر کی طرح بھٹکتے رہے، جنہیں چہار سو والد کی شخصیت کا سراب ہی دکھائی دیتا تھا۔ انہیں ’پبھاں پار‘ غزل سے شہرت کی بلندی ملی۔ وہ اپنے چچا اور معروف گائیک حامد علی خان کے ساتھ بھی جوڑی کی صورت میں گاتے رہے، اس دور میں بھی انہوں نے مقبولیت کے کئی مدارج طے کیے۔

ان کے چھوٹے بھائی شفقت امانت علی سے میں نے جب اپنی کتاب ’سُرمایا‘ کے لیے مکالمہ کیا اور اسد امانت علی کا ذکر آیا تو یوں گویا ہوئے کہ ’اسد بھائی اور میرے درمیان رشتے کے کئی مراحل تھے، جنہیں ہم نے قدم بہ قدم طے کیا۔ میں جب کم عمر تھا تو وہ میرا خیال اپنے بچوں کی طرح رکھتے تھے۔ میں جب بڑا ہوا اور موسیقی کے شعبے میں قدم رکھا تو ان کے لہجے میں ایک ذمے دارانہ سختی والا رنگ آگیا تھا، لیکن اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بہت مدھم ہوگئے تھے۔ وہ بہت ملنسار تھے۔ میرا ان سے احترام کا رشتہ تھا۔ وہ جب کبھی میری گائیکی کی تعریف کرتے تو مجھے شرم آتی اور ڈر بھی لگتا کیونکہ وہ میرے بڑے تو تھے ہی لیکن مشتاق گائیک بھی تھے‘۔

اسد امانت علی کے ہی ایک عزیز اور نئی نسل کے باصلاحیت کلاسیکی گلوکار ’کرم عباس‘ نے بھی ان کے ساتھ اپنی یادوں کو دہراتے ہوئے بتایا کہ ’وہ ایک دھیمی اور نرم شخصیت کے مالک تھے۔ جب بھی میں ان سے ملا، بہت خلوص اور اپنائیت سے پیش آئے۔‘

اسد امانت علی ایک دھیمی اور نرم شخصیت کے مالک تھے
اسد امانت علی ایک دھیمی اور نرم شخصیت کے مالک تھے

اسد امانت علی خان کی زندگی کے اختتامی برسوں میں، پاکستان کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ’ادا جعفری‘ کی لکھی ہوئی غزل ’ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے‘ گائی تو گویا اپنی مقبولیت کی آخری حد کو چھولیا۔ وہ غزل کا عروج تھا اور اسد امانت علی خان کی گائیکی کا بھی۔ وہ اس کو گاتے ہوئے اپنے گزشتہ تمام فنی حدوں کو عبور کرتے چلے گئے۔

جہاں اسد امانت علی خان ایک طرف خواص کے پسندیدہ گائیک تھے، وہیں اس غزل کے ذریعے عوام کے بھی پسندیدہ گلوکار بھی ہوگئے، لیکن تمام نمایاں حکومتی اعزازات اور زندگی کی مادی خوشیاں سمیٹنے والے اس فنکار کے دل میں تنہائی کا صحرا تھا، جہاں دور تک ننگے پاؤں یادیں قافلے کی صورت پا پیادہ تھیں۔

اس فنکار کے دل کی راہدری میں یادوں کی دھول اڑتی تھی، جس سے یہ اپنے پسندیدہ چہروں کے خاکے تراشتا تھا۔ اپنی آواز کی روشنائی میں رومان اور اداسیوں کے موسموں کا حال کہتا تھا۔ وہ رخصت ہوگیا لیکن اس کی آواز کے پرندے اب بھی فراموشی کے موسم لیے دل کی ٹہنیوں پر اترتے ہیں، دورِ جدید کے ہنگاموں میں کچھ لمحوں کے لیے رُک کر انہیں محسوس کرنے کی طلب بیدار کرتے ہیں، اس طلب کو ہی اسد امانت علی خان کی آواز پورا کرتی ہے۔ اسد امانت علی خان کی اپنے چھوٹے بھائی شفقت امانت علی کے ساتھ واحد دستیاب کمپوزیشن کو سنیے ،جس میں دونوں بھائی اپنے فن کی بلندی پر ہیں۔


بلاگر صحافی، محقق، فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔