مسلم لیگ (ن) کا فواد چوہدری کے سینیٹ میں آنے پر پابندی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2018

ای میل

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری پر سینیٹ میں آنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

سینیٹ کے اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے قومی اسمبلی میں بیان کی مذمت کی گئی۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ کل قومی اسمبلی میں کی گئی بات پر پاکستان کا ہر آدمی شرمندہ تھا، لوگ شرمندہ تھے کہ ہمارے پارلیمان میں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں بننے والے وزرا کا یہ رویہ ہے؟ وزیر کے بیان سے اس ایوان کی تضحیک ہوئی ہے۔

انہوں نے وزیر اطلاعات پر سینیٹ میں آنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری پر کم سے کم ایک ماہ کے لیے ایوان میں آنے پر پابندی عائد کی جائے۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ وزیر اطلاعات کا حال یہ ہے کہ انہیں کچھ پتہ ہی نہیں، قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر میرے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے، میں پی آئی اے میں ٹریفک سپروائزر تھا۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر کے 100 بڑے نادہندگان کے خلاف آپریشن کریں گے، فواد چوہدری

ان کا کہنا تھا کہ افسوس ہے وزیر اطلاعات پیپلز پارٹی کو چور ڈاکو کہہ رہے تھے، حالانکہ ان کے اپنے ماموں پیپلز پارٹی میں ہیں، وزیر نے پیپلز پارٹی کو چور کہہ کر اصل میں خود کو ڈاکو کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات لگائے گئے الزامات کے ثبوت دیں یا ایوان میں آکر معافی مانگیں، وزیر اطلاعات معافی نہیں مانگیں گے تو یہ ایوان نہیں چلے گا، یہ ریاست مدینہ کے وزیر ہیں یا محمد شاہ رنگیلے کے؟

مشاہد اللہ خان کی تقریر پر حکومتی ارکان کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) نے فواد چوہدری کے خلاف تحریک استحقاق بھی پیش کی۔

تحریک میں کہا گیا ہے کہ وزیر اطلاعات نے مشاہد اللہ پر بے بنیاد الزامات لگائے، لہٰذا ان کے خلاف تحریک استحقاق منظور کی جائے اور انہیں شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔

یہ بھی دیکھیں: فواد چوہدری کی قومی اسمبلی میں جارحانہ تقریر

قبل ازیں وزرا کی عدم حاضری پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں ایک بھی وزیر موجود نہیں، تقاریر کرنے کا کیا فائدہ جب تمام کرسیاں خالی پڑی ہیں۔

حکمراں جماعت کے سینیٹر شبلی فراز نے وزرا کی عدم حاضری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'وزرا کی عدم حاضری میرے لیے باعث شرمندگی ہے، انہیں ایوان میں موجود ہونا چاہیے تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ریڈیو پاکستان میں مالی بحران پر بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کہا تھا کہ ’30 سال کے تجربہ کاروں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا، سابق حکمرانوں نے قومی خزانے کو ایسے لٹایا جیسے ڈاکو ڈانس پارٹی میں لٹاتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز،ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کو تباہ کردیا گیا،عوام کے پیسے لوٹنے والوں کو کڑی سزا دینی چاہیے۔

وفاقی وزیر نے الزام لگایا کہ خورشید شاہ نے ریڈیو پاکستان میں 3 گھنٹوں میں 800 لوگوں کو بھرتی کروایا۔

فواد چوہدری کی جانب سے سابق حکومتی وزرا پر قومی خزانے کو ’ڈانس پارٹی‘ میں لٹانے سے متعلق غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے پر اپوزیشن نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا تھا۔