پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے سعودی عرب کی دلچسپی

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2018

ای میل

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی عرب کے اعلیٰ سطح کے وفد نے اسلام آباد میں توانائی کے وزیر عمر ایوب سے ملاقات کے دوران پاکستان میں توانائی کے متبادل شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار کردیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مشیر برائے توانائی احمد حمید الغامدی کی سربراہی میں پاکستان کے دورے پر آئے وفد سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ ایک ایسی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کریں گے جو تیل اور معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تجارت سے متعلق ہوگا، جس کا مقصد چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) میں توسیع ہے، جو گوادر سے عمان اور ریاض کے ذریعے افریقہ تک دیئے جانے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں سعودی عرب کی بھاری سرمایہ کاری کا امکان

وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے سعودی وفد کو پاکستان میں لگنے والے نئے ہائیڈور پروجیکٹس اور توانائی کی پیداوار کے منصوبوں کے حوالے سے بتایا، انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو ہر سطح پر سہولیات فراہم کی جائے گی۔

اس کے جواب میں سعودی وفد نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان میں توانائی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں سعودی وفد نے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد سے ملاقات کی اور دو طرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔

اس سے قبل ڈان کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سعودی وفد میں سعودی عرب کی قومی آئل کمپنی ارمکو کے ارکان بھی شامل تھے۔

سعودی وفد سے براہ راست مذاکرات میں دیگر وزارتوں کے حکام کے علاوہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا سعودی عرب کو سی پیک میں ’تیسرا شراکت دار‘ بنانے کا اعلان

واضح رہے کہ یادداشت (ایم او یو) پر دستخط سعودی وفد کے 4 روزہ دورے کے اختتام پر کیے جائیں گے۔

مذکورہ اقدام کے بعد اسلام آباد کو پیٹرولیم مصنوعات کی محفوظ اور مستقل رسد ممکن ہوسکے گی جبکہ ریاض نے گوادر میں ایک آئل ریفائنری لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اس کے علاوہ بلوچستان میں ریکو ڈک کے سونے کے ذخائر اور پنجاب میں ایل این جی کے ذریعے توانائی کی پیدوار کے امور میں سرمایہ کاری بھی زیر غور ہے۔